خریدنا ہے تو ابھی خریدیں ، گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی؟ نئی قیمت نے حیران کر دیا

خریدنا ہے تو ابھی خریدیں ، گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی؟ نئی قیمت نے حیران کر دیا

ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان عوام کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آ گئی ہے، جہاں حکومت ایک نئی آٹو پالیسی کے ذریعے قیمتوں میں واضح کمی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس مجوزہ پالیسی کا مرکز مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری کو فروغ دینا ہے، جس سے نہ صرف گاڑیاں سستی ہوں گی بلکہ ملکی صنعت کو بھی نئی زندگی ملنے کی توقع ہے۔

وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں آٹو پارٹس انڈسٹری کے وفد کے ہمراہ آئندہ آٹو پالیسی اور مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ حکومت ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے ذریعے مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کو فروغ دینا چاہتی ہے، ہارون اختر خان کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مرکزی نکتہ مقامی سطح پر پرزہ جات کی پیداوار میں اضافہ ہے۔

انہوں نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو مشورہ دیا کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوں تاکہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔

ہارون اختر خان نے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مؤثر پالیسی فریم ورک تشکیل دے۔

ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ نئی آٹو پالیسی ہمہ جہت ہوگی اور ملکی آٹو سیکٹر کی ترقی کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ موثر پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی حکومت کی ترجیح ہے۔

اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کے لیے خصوصی مراعات دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا، سیکرٹری صنعت نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ان مراعات پر کام جاری ہے۔
حکومت نئی آٹو پالیسی میں ٹیکس اور ڈیوٹی میں رد و بدل پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ متوسط طبقے کے لیے گاڑیاں مزید سستی بنائی جا سکیں۔

حماد منصور کے مطابق پالیسی یکم جولائی کو متعارف کرائے جانے کا امکان ہے جبکہ ایک ملین روپے سے کم قیمت والی چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں اسی سال متوقع ہیں۔

آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے نمائندوں نے اجلاس کو بتایا کہ گاڑیوں کے اسمبلرز کی تعداد بڑھنے کے باوجود ان کی صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے،ان کے مطابق نئے آنے والے ادارے 25 فیصد ڈیوٹی کے ساتھ درآمد شدہ مقامی پرزہ جات استعمال کر رہے ہیں جبکہ وہ خود 15 فیصد ڈیوٹی دے کر سی کے ڈی کٹس کے ذریعے پرزہ جات لا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close