چین کے صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے چار نکاتی تجویز پیش

چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے چار نکات پر مشتمل ایک اہم فارمولا پیش کر دیا ہے۔

یہ تجاویز انہوں نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کے دوران پیش کیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے، اور یہ قوانین ایسے نہیں ہونے چاہئیں کہ جب دل چاہا استعمال کر لیے اور جب ضرورت نہ رہی تو انہیں پس پشت ڈال دیا گیا۔

ان کا اشارہ واضح طور پر ایران کے خلاف جاری حالیہ فوجی مہم کی طرف تھا جسے بیجنگ غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو ’جنگل کے قانون‘ کی طرف واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے چار بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کو خطے کے مسائل کا واحد حل قرار دیا۔

چینی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔

اس جنگ کے اثرات اب براہ راست چین کی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں چین کی قدرتی گیس کی درآمدات اکتوبر 2022 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جبکہ خام تیل کی ترسیل میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بہت سے چینی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تہران کی جانب سے پڑوسی ممالک کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں شدید بے یقینی پھیلی ہوئی ہے۔

ملاقات کے دوران چینی صدر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر ایک ایسا مضبوط اور متحرک رشتہ استوار کرنا چاہتا ہے جو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکے۔

اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر بھی بات ہوئی، جہاں چینی وزیراعظم لی چیانگ نے ولی عہد کو توانائی، ہائیڈروجن اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

چین کی کوشش ہے کہ رواں سال کے آخر تک خلیجی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ مکمل کر لیا جائے تاکہ اقتصادی راہداری کو مزید وسعت دی جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close