اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے اکابرین سے درخواست ہے آپ دنیا میں صلح کروانے کا اچھا کام کر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر سیاسی قیدیوں کے بنیادی قانونی حقوق کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے؛ وکیل رہنماء کا بیان
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماء ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی بینائی کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچ چُکا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومتی بے توجہی اور غفلت کے باعث عمران خان کی بینائی کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچ چُکاہے، ان کی صحت تقاضا کرتی ہے کہ ان کو بہتر علاج کے لیے فوری طور پہ ہسپتال منتقل کیا جائے، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے اکابرین سے درخواست ہے کہ آپ دنیا میں صلح کروانے کا اچھا کام کر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر سیاسی قیدیوں کے بنیادی قانونی حقوق کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے۔
اسی طرح پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل حکام نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کیا، بشری بی بی کو عدالتی حکم کے باوجود ملاقات میں شامل نہ کیا گیا، عمران خان اور بشری بی بی قید تنہائی میں ہیں، 24 گھنٹے الگ رکھا جا رہا ہے، کتب، ٹی وی، اہل خانہ اور وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے بتایا کہ 60 منٹ طویل ملاقات ہوئی، قانونی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، القادر ٹرسٹ کیس پر اہم ہدایات جاری کیں، عمران خان کی صحت بہتر، حوصلہ بلند اور پہلے سے مضبوط ہے، آنکھوں کی پیچیدگی برقرار ہے، مزید علاج دو ہفتے جاری رہے گا، انہوں نے ضمانت درخواستوں پر دلائل اور میرٹ پر فیصلے پر زور دیا۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین خان نے کہا ہے کہ راولپنڈی کا جلسہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے منسوخ کروایا تاکہ حکومت کو ریلیف دیا جا سکے، اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر حکومت کو ریلیف دیا گیا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بدلے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی ریلیف حاصل نہیں کیا گیا نہ ہی فیملی ملاقاتوں کے لیے کوئی موثر آواز اٹھائی گئی اور نہ ہی ان کی غیرقانونی قیدِ تنہائی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام کیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






