خوفناک کشتی حادثہ ، بڑا نقصان ہو گیا

 غیر قانونی طریقے سے لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں تحصیل پھالیہ کے 6 نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ ایک نوجوان معجزانہ طور پر بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

 

ذرائع کے مطابق 4 اپریل کو 105 تارکین وطن لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے تھے کہ سمندر میں حادثے کا شکار ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 30 افراد جان بچا کر اٹلی کے پناہ گزین کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہے۔

خوش قسمتی سے بچ جانے والوں میں پھالیہ کا رہائشی عمران اصغر گھمن بھی شامل ہے جس نے پناہ گزین کیمپ پہنچ کر اپنے زندہ ہونے کی اطلاع دی۔ عمران کے والد کے مطابق ان کا بیٹا قطر کا ویزا لگوا کر لیبیا پہنچا اور وہاں سے اٹلی کے لیے روانہ ہوا تھا۔

دوسری جانب حادثے کے بعد سمندر میں لاپتہ ہونے والے 75 سے زائد افراد کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تحصیل پھالیہ کے 6 نوجوان تاحال لاپتہ ہیں جن کے گھروں میں کہرام مچا ہوا ہے۔

لاپتہ ہونے والوں میں 4 نوجوانوں کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے جن کے نام طیب عباس، عرفان ورک، تنویر صادق اور فیضان ساجد بتائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ رنمل شریف کا اقبال ارشد اور پنڈی لالہ کا سعد ظفر بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔

اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے پیاروں کی تلاش کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلر نوجوانوں کو سہانے مستقبل کے خواب دکھا کر موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close