اسلام آباد الیکشن کمیشن نے دو سال بعد عام انتخابات 2024 کی مکمل رپورٹ جاری کر دی ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں پری اور الیکشن ڈے کے اقدامات جبکہ دوسرے حصے میں پوسٹ الیکشن نتائج کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ میں ملکی و غیر ملکی مبصرین کی آرا بھی شامل کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024 پر مجموعی طور پر 33 ارب 48 کروڑ روپے خرچ ہوئے جو دو مالی سالوں میں ہوئے۔ پنجاب میں بروقت انتخابات نہ ہونے کی وجوہات میں فنڈز، سیکیورٹی، پولنگ کی تاریخ نہ ملنا، جوڈیشل آرا، عدالتی مقدمات اور مردم شماری میں تاخیر شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نشان سے محروم رہی، جبکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کو متعدد بار انتخابات کرانے کا موقع دیا۔عام انتخابات 2024 کے وقت 166 سیاسی جماعتیں درج تھیں۔ ساتویں مردم شماری کے بعد 266 قومی اور 593 صوبائی حلقوں میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں۔ انتظامیہ سے ریٹرننگ افسران لیے گئے کیونکہ جوڈیشری سے افسران فراہم نہیں ہوئے۔ ملک بھر میں 859 آر اوز اور 144 ڈی آر اوز تعینات کیے گئے، جنہیں 2843 لیپ ٹاپس اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز فراہم کیے گئے۔انتخابات میں 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے، جو 2018 کے مقابلے میں 5585 زیادہ ہیں، جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار 402 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ 10 لاکھ 59 ہزار سے زائد انتخابی عملہ تعینات ہوا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 22 ہزار 855 امیدواروں کے کاغذات منظور ہوئے، اعتراضات اور اپیلوں کے بعد 18 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں رہے۔ چار حلقوں میں امیدواروں کی وفات کے باعث انتخابات نہ ہو سکے۔الیکشن کمیشن نے 150 سیاسی جماعتوں کو نشانات الاٹ کیے اور 2 لاکھ 69 ہزار 113 پوسٹل بیلٹ پیپرز جاری کیے۔ افسران کو انتخابی اعزازیہ دیا گیا: ہر ڈی آر او کو ایک لاکھ، آر اوز کو 75 ہزار، اے آر اوز اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو 50 ہزار، پریذائڈنگ افسران کو 6 ہزار اور پولنگ افسران کو 450 روپے فی کس۔ بیلٹ پیپر کے سائز کو کم کر کے 140 کروڑ روپے بچائے گئے۔عام انتخابات 2024 میں ٹرن آوٹ 47.65 فیصد رہا۔ 376 الیکشن پٹیشنز ٹربیونلز میں دائر ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ 198 پٹیشنز پنجاب میں دائر ہوئیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کے باعث ای ایم ایس کے ذریعے نتائج وصول کرنے میں مسائل آئے، تاہم ای ایم ایس کے ذریعے پہلا نتیجہ گزشتہ انتخابات کی نسبت دو گھنٹے پہلے وصول ہوا۔عام انتخابات 2024 میں 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 763 ووٹرز اہل تھے، جن میں سے 6 کروڑ 12 لاکھ 76 ہزار 254 ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس طرح نصف سے زیادہ ووٹرز نے ووٹ نہیں ڈالا۔ دونوں حصوں کی رپورٹ مجموعی طور پر 806 صفحات پر مشتمل ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






