پیٹرول مزید 100روپے مہنگا؟ حکومت نے فیصلہ کر لیا

اسلام آباد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے تاہم آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی نے پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اضافے اور غریب طبقات کے لیے ایک مشترکہ سبسڈی فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا پٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے،

حکومت غور کر رہی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں مکمل فرق جبکہ ڈیزیل کی قیمت میں آدھا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا جائے۔اوگرا کی جانب سے حتمی حساب کتاب کے بعد آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔وفاقی حکومت اب تک 129 ارب روپے کی فیول سبسڈی خود برداشت کر چکی ہے، تاہم اب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت کے بعد صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مالی بوجھ میں اپنا حصہ ڈالیں۔پنجاب اور سندھ این ایف سی فارمولے کے تحت آبادی کے لحاظ سے حصہ دیں گے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ایندھن کی کھپت کے تناسب سے اپنا حصہ ڈالیں گے۔اجلاس میں غریب طبقات کو مہنگائی سے بچانے کے لیے درج ذیل اقدامات پر اتفاق ہوا،

وفاق اور صوبے مل کر موٹر سائیکل سواروں کو سستا پٹرول دینے کے لیے راشننگ میکانزم کا اعلان کریں گے۔بی آر ٹی (BRT) بسوں کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ شہروں میں سفر کرنے والوں کو ریلیف مل سکے۔حکام کا اندازہ ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے لیے ہفتہ وار 15 سے 30 ارب روپے کی ضرورت ہوگی تاہم پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ ڈیزیل کی قیمت میں اضافے سے مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے، جس سے براہِ راست اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر آسکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close