پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کتنی ردوبدل ، وزیراعظم نے اعلان کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دو محاذوں پر نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر اضافی بوجھ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا حجم 56 ارب روپے ہے، یعنی اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایران اور خلیجی ممالک کی قیادت سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہے اور اس جنگ کو رکوانے کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور اور مخلصانہ کوششیں جاری ہیں تاکہ خطہ اور برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ اور اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں اور اجتماعی دانشمندی سے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں صرف ایک بین الاقوامی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور اس لیے خواہ کوئی کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو، بطور مسلمان سب کے دل میں امن کی خواہش یکساں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں انہوں نے متعدد مرتبہ ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے تفصیلی گفتگو کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پوری محنت اور خلوص کے ساتھ ان کاوشوں میں مصروف ہیں جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس عمل کی کامیابی کے لیے اہم اور قریبی کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کی ہے اور قوم سے درخواست کی کہ ان کوششوں کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close