برطانوی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر نے ایران جنگ کو آسان قرار دے کر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس میں شامل کروانے پر نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو نے ایران میں رجیم تبدیلی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ٹرمپ کو ایسے وعدے کیے جو پورے نہ ہو سکے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایک دن بعد اسرائیلی میڈیا میں اس گفتگو سے متعلق ایک مختلف خبر سامنے آئی، جس پر وائٹ ہاؤس نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید یہ کہانی جے ڈی وینس کو بدنام کرنے کے لیے گھڑی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران میں حکومت کی گرفت مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ جے ڈی وینس ایران جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکراتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






