وزیر اعظم شہباز شریف کی قوم کو عید کی مبارکباد ؛ انہوں نے کہا آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 158 ڈالر فی بیرل عبور کرچکا ہے ۔اس کا براہ راست بوجھ دنیا بھر کی عوام پر پڑ رہا ہے ۔
وزیر اعظم نے عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا بھائی چارے کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں میرے بزرگو بھائیو بھائیو اور بہنوں اج جب دنیا ایک غیر معمولی ازمائش سے دوچار ہے تو اظہار مسلسل محنت اور باہمی ہمدردی ہی وہ روشن اقدار ہیں جو ہمیں اس بحران کی تاریکی سے نکال سکتی ہیں ہمارے خطے میں جاری جنگ نے نہ صرف عالمی معیشت اور امن و استحکام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ عام انسان کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے خطے میں برادر ممالک کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے اور یہ خرچہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ بحران خدانخواستہ مزید شدت اور طوالت اختیار کر سکتا ہے میرے بزرگوں بھائیوں اور بہنوں اس وقت عالمی منڈی میں خلیجی تیل کی قیمتیں اسمان سے باتیں کر رہی ہیں جو تیل چند ہفتے قبل 72 ڈالر فی بیرل دستیاب تھا وہ صرف تین ہفتوں میں 158 ڈالر فی بیرل کی تاریخی حدعبورکر چکا ہے اور اگر صورتحال یوہی بگڑتی رہی تو پھر مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست بوجھ دنیا بھر کے عوام پر پڑ رہا ہے اور حالیہ تاریخ میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے رہا ہے میرے بزرگو بھائیوں اور بہنوں مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکنے کے بعد مارچ کے اغاز میں تیل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا جو اضافہ ہوا تھا اس نے اپ کی زندگیوں کو بے پناہ متاثر کیا ہے اپ کے گھریلو اخراجات پر بہت بوجھ پڑا اور بہت سے گھرانوں کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اپ نے ہمیشہ کی طرح انتہائی سمجھداری صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اور اپ کے اس جذبے اور تعاون پر میں اپ کا تہ دل سے مشکور ہوں میرے بزرگو بھائیو اور بہنوں گزشتہ ہفتے یعنی 13 مارچ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوا اس عالمی صورتحال کے پیش نظر مجھے پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 50 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی مگر میں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس سے قبل کیا گیا 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ اپ کی قوت برداشت پر پہلے ہی ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






