اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں مقتولہ کے والد نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
والد نے عدالت کو بتایا کہ وہ اہلیہ، بیٹے اور اپنی بیٹی ثناء یوسف کے ساتھ سیکٹر جی-13 میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے مطابق ثناء یوسف سوشل میڈیا انفلوئنسر تھی اور اس کا سوشل میڈیا پر کافی فالوورز تھے۔ انہوں نے بیان دیا کہ وقوعے کے دن وہ کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھے، اور شام کو اہلیہ نے فون پر اطلاع دی کہ نامعلوم شخص نے ان کی بیٹی کو گولی مار دی ہے۔ فوری طور پر ثناء کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے انہیں بتایا کہ بیٹی جاں بحق ہو چکی ہے۔
ثناء یوسف کے والد نے مزید کہا کہ بیٹی کی لاش پمز اسپتال منتقل کی گئی، جس کے بعد پولیس کو مکمل بیان ریکارڈ کروایا گیا۔ اس کے علاوہ بیٹی کا موبائل فون بھی پولیس کے حوالے کیا گیا اور جائے وقوع کی رپورٹ بھی تیار کی گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






