اگر آپ پہلے سے صاحب نصاب ہیں اور رمضان میں اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں، تو ادائیگی کی تاریخ سے چند دن قبل آپ کے پاس جو نیا مال آیا ہے، مثلاً مکان کی رقم، اس پر بھی زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔ مال کے ہر حصے پر علیحدہ سال گزرنا شرط نہیں ہے۔
فقہاء کرام کے مطابق جو شخص مالک نصاب ہے، اگر سال کے درمیان اسی جنس کا کوئی اور مال حاصل کرے—چاہے وہ تجارت سے ہو، میراث میں ملا ہو، ہبہ کے طور پر ملا ہو یا کسی اور جائز ذریعہ سے—تو اسے پہلے سے موجود مال میں شامل کرکے زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔
اسی طرح اگر کوئی مال سال کے اختتام سے چند دن پہلے حاصل ہو، حتیٰ کہ صرف ایک دن پہلے ہی کیوں نہ ہو، تو بھی اسے پہلے سے موجود نصاب میں ملا کر کل مال کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ ہر قسم کے مال—نقدی، سونا، چاندی، تجارتی مال—پر علیحدہ سال گزرنا زکوٰۃ کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو تاجروں اور تنخواہ دار افراد کے لیے زکوٰۃ کا حساب نکالنا ناممکن ہو جاتا۔
لہٰذا اگر زکوٰۃ ادا کرنے کی مقررہ تاریخ سے پہلے آپ کو مکان کی قیمت ملی، تو اس رقم کو اپنے دیگر مال میں شامل کرکے کل مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






