خبردار!!! ریٹائرڈ ملازمین کیلئے نئی پنشن پالیسی کا اعلان

پنشن قوانین میں اہم تبدیلیاں کر دی گئی ہیں جن کے تحت رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے لیے نئی شرائط مقرر کر دی گئی ہیں۔

لاہور میں پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد سرکاری ملازمین کے پنشن قواعد میں ترامیم کی گئی ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔

نئی ترامیم کے مطابق رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ ملازم کی کم از کم 25 سال سروس مکمل ہو اور عمر کم از کم 55 سال ہو۔ اگر دونوں میں سے کوئی شرط بعد میں پوری ہوتی ہے تو ریٹائرمنٹ بھی اسی بنیاد پر دی جائے گی، یعنی اگر 25 سال سروس پہلے مکمل ہو جائے لیکن عمر 53 سال ہو تو 55 سال کی عمر تک انتظار کرنا ہوگا۔

جبری ریٹائرمنٹ کی صورت میں پنشن کے فوائد صرف اس وقت دیے جائیں گے جب ملازم کی کم از کم 20 سال کی سروس مکمل ہو چکی ہو۔ کرپشن یا بدانتظامی کے مقدمات میں بھی پنشن کے لیے مطلوبہ سروس مدت کو پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

حکومت نے 22 اپریل اور 19 جون 2025 کے پرانے نوٹیفکیشن واپس لے لیے ہیں جن میں ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کرنے والوں کو تنخواہ اور پنشن دونوں لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ نئے قانون کے تحت ریٹائرڈ ملازم اگر دوبارہ سرکاری ملازمت اختیار کرتا ہے تو اسے تنخواہ یا پنشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، اور 60 سال سے زائد عمر کے ملازمین پر بھی یہی اصول لاگو ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close