زکوٰۃ اور صدقۂ فطر (فطرانہ) دونوں مالی عبادتیں ہیں، مگر یہ ایک جیسی نہیں بلکہ الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔ ایک ادا کرنے سے دوسری ادا نہیں ہوتی۔
صدقۂ فطر (فطرانہ):
ہر اس مسلمان پر لازم ہوتا ہے جو عیدالفطر کی صبح صادق کے وقت اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال یا سامان رکھتا ہو جس کی مالیت نصابِ فطر تک پہنچتی ہو۔
اس کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں۔
اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ فطرانہ نمازِ عید سے پہلے ادا کر دیا جائے تاکہ مستحقین بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔
زکوٰۃ:
صرف مخصوص اقسام کے مال پر واجب ہوتی ہے، جیسے: نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت، سائمہ جانور۔
مال کا نصاب تک پہنچنا اور اس پر قمری سال گزرنا ضروری ہے۔
جب یہ شرائط پوری ہوں تو زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
خلاصہ:
فطرانہ: عید سے متعلق عبادت، سال شرط نہیں۔
زکوٰۃ: نصاب اور سال مکمل ہونے پر فرض۔
دونوں الگ ہیں، ایک دوسرے کا بدل نہیں۔
اگر آپ چاہیں تو میں نصاب اور موجودہ حساب (چاندی/سونے کی قیمت کے مطابق) بھی بتا سکتا ہوں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






