اسلام آباد(پی این آئی) وفاقی وزارت خزانہ نے 25سال سرکاری سروس مکمل کئے بغیر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر پابندی عائد کر دی ہے ،اس حوالے سے باقاعدہ سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ نے وزارتوں اور ڈویژنز کو آگاہ کیا ہے کہ ان رولز کے پیرا5کے تحت کوئی بھی سرکاری
ملازم25سال سروس مکمل کرنے کے بعد ہی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے سکتا ہے۔وزارت کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ بہت سی وزارتوں میں ان قواعد کے خلاف ریٹائرمنٹ کیلئے درخواستیں دی گئیں جنہیں قبول کر لیا گیا اور بعد میں ان ملازمین کو پنشن کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وزارت نے سرکاری ملازمین اور وزارتوں کے پرنسپل اکائوٹنگ افسران (وفاقی سیکر ٹر یز ) کو آگاہ کیا ہے کہ مستقبل میں25سال کی سروس مکمل کئے بغیر کوئی ملازم اگر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواست دے گا تو اسے قبول نہ کیا جائے۔ایسی درخواستوں کے ہمراہ پنشن فارم بھی داخل کر ایا جانا ضروری ہے ، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کیلئے موصول ہر درخواست کو آڈٹ ڈیپارٹمنٹ سے 25سا ل سروس مکمل ہونے کی تصدیق کروا نا ہوگی تاکہ پنشن کی منظوری اور ادائیگی میں مشکلات پیش نہ آئیں ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا حکومت کے گلے پڑ گیا، معاشی ٹیم مشکل صورتحال سے دوچار اسلا م آباد(پی این آئی)سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے سے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم اس اچانک فیصلے کی وجہ سے آئی ایم ایف کو کس طرح مطمئن کریں گے۔روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدرکی شائع خبر کے مطابق، گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافی الائونس کے حکومتی فیصلے سے قومی خزانے پر 30 ارب روپے سالانہ تک کا بوجھ پڑے گا۔یکم مارچ، 2021 سے 30 جون، 2021 تک چارہ ماہ کی مدت میں قومی خزانے پر 10 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ ایسی صورت حال میں حکومت کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف کو کس طرح مطمئن کرے گی کیونکہ گزشتہ بجٹ 2020-21 میں آئی ایم ایف نے اس طرح کے اقدام کی سخت مخالفت کی تھی۔ پی ٹی آئی کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو اس حوالے سے اعتماد میں لے لیا تھا کہ وہ آئندہ بجٹ 2021-22 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ٹھوس اضافہ کریں گے۔ تاہم اس اچانک فیصلے کی وجہ سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے والے پاکستانی حکام مشکل صورت حال سے دوچار ہوگئے ہیں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اس اچانک فیصلے کی وجہ سے آئی ایم ایف کو کسطرح مطمئن
کریں گے۔ آئی ایم ایف نے ہی حکومت کو تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کرنے دیا تھا اور کہا تھا کہ فنڈ پروگرام میں شامل رہنے کے لیے پاکستان کو مالی نظم و ضبط کا پابند رہنا ہوگا۔ اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ اصولی معاہدہ ہوچکا تھا کہ آئندہ بجٹ میںتنخواہوں اور پنشن میں خاطر خوا اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم حالیہ فیصلے سے مذاکراتی ٹیم کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کے ”کیو بلاک” کے حاملین دو وجوہات کے سبب پریشان ہیں۔ ایک ایف9 پاک کو گروی رکھنے پر اور دوسرا تنخواہوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاصافرق ہے، بعض محکموں کے ملازمین دگنی یا تین گنا تنخواہیں تک حاصل کررہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں