*آبنائے ہرمز کھولنا شرائط سے مشروط، مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے: ایرانی وزیر خارجہ*
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے، جبکہ تہران نے سفارتی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں عراقچی نے کہا کہ ایرانی وفد نے مختلف ملاقاتوں میں ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط واضح طور پر پیش کیں اور ثالثوں کو بھی آگاہ کیا جنہوں نے انہیں امریکی حکام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے کئی سفارتی تجاویز بھی دی ہیں لیکن امریکا کی جانب سے حتمی اور باضابطہ مؤقف ابھی تک نہیں آیا۔ ایرانی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی بیانات سے آگاہ ہے لیکن حتمی جواب کا انتظار ہے۔
عراقچی کے مطابق حالیہ ایرانی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ضروری اقدامات مکمل ہونے پر آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا اور اس کے بعد مزید مذاکرات شروع ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے فوجی، سفارتی اور معاشی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم تنازع کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے جو باعزت، منصفانہ اور ایرانی عوام کے حقوق پر مبنی ہو۔






