ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ بڑی دھمکی دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں کھولنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ پیشکش ناقابل قبول ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز پر پہلے ہی مکمل کنٹرول حاصل ہے اور وہاں سے تیل کی بڑی مقدار گزر رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا دونوں معاہدہ چاہتے ہیں تاہم موجودہ ایرانی تجویز قابل قبول نہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں بتایا تھا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو سات روزہ منصوبہ بھیجا ہے جس کے تحت بعض شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز سات روز میں کھولی جا سکتی ہے اور امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات بھی بحال ہو سکتے ہیں، اس منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی ہٹانے، ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور لبنان سمیت جنگ بندی جیسے اقدامات شامل ہیں، عراقچی کے مطابق ابتدائی اقدامات میں چار سے پانچ روز لگیں گے، چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔