ایران کو سخت دھمکیاں، پھر یوٹرن؟ ٹرمپ کی پالیسی پر نئی تنقیدی رپورٹ سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ناقدین اور مبصرین ان کے سخت بیانات اور بعد کے اقدامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے مختلف مواقع پر ایران کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکیاں دیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، فوجی کارروائی اور اہم تنصیبات پر دباؤ ڈالنے کے بیانات شامل تھے، تاہم بعض اوقات ان بیانات کے بعد فوری طور پر بڑے اقدامات سامنے نہیں آئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات اور عملی اقدامات میں فرق نظر آیا، جبکہ ان کے حامیوں کے مطابق فوجی تصادم سے گریز اور مذاکرات کو ترجیح دینا ایک حکمت عملی کا حصہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انہی واقعات کے بعد ٹرمپ کے مخالفین کی جانب سے ایک مخصوص اصطلاح استعمال کی جانے لگی، جبکہ حامی اسے سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

امریکی حکومت کی جانب سے اس تنقید یا اصطلاح پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی پر بحث جاری ہے۔