ایران نے آبنائے ہرمز میں یورپی ممالک کی جانب سے ملیٹری بحری جہاز تعینات کیے جانے پر فیصلہ کن اور فوری ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے یہ بیان فرانس اور برطانیہ کی جانب سے خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کے اعلان کے بعد جاری کیا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ ہو یا امن اس آبنائے میں صرف ایران سیکیورٹی برقرار رکھ سکتا ہے اور اس طرح کے معاملات میں کسی بھی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس نے اپنا فلیگ شپ طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈی گال بحیرہ احمر اور خلیج عدن بھیجنے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ نے مبینہ طور پر جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت برقرار رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی نائب وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خطے سے باہر کے جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی اور موجودگی، چاہے اسے جہازوں کے تحفظ کا نام دیا جائے، دراصل بحران کو مزید بڑھانے، ایک اہم آبی گزرگاہ کو عسکری شکل دینے اور خطے میں عدم استحکام کی اصل وجوہات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری سیکیورٹی محض فوجی طاقت کے مظاہرے سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی، خصوصاً ان ممالک کی جانب سے جو حمایت، شرکت یا جارحیت اور ناکہ بندی پر خاموشی اختیار کر کے خود بھی مسئلے کا حصہ بن چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






