ایران امریکا مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، تہران نے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے نئی تجاویز امریکا کو ارسال کردیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز جمعرات کی شام بھیجی گئی ہیں۔
مذاکرات کے لیے نیا فارمولا گزشتہ روز پاکستانی ثالثوں کو پیش کردیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران نے جمعرات کی شام کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کے حوالے کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن، مذاکرات میں تہران کی اولین ترجیح ہے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کےلیے تیار ہیں لیکن مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات میں فوری نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، ایسا کرنا حقیقت پسندی نہیں، کسی کو مخالفین کے بیانات اور ٹوئٹس پر یکطرفہ اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا میں پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد اب تک دوسرا راؤنڈ نہیں ہوسکا۔
واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا جنگی اخراجات اور نقصانات سے متعلق جھوٹ بول رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پینٹاگون ایران کے ساتھ جنگ میں ہونے والے اپنے اصل نقصانات اور اخراجات کو چھپا رہا ہے اور اس حوالے سے عالمی برادری اور اپنے عوام سے جھوٹ بول رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے، جس کا تخمینہ اب تک 100 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






