اللہ کی رحمت کا نزول،عمرے کی ادائیگی شروع،18 اکتوبر سے روزانہ 15ہزار عمرہ زائرین اور 40 ہزار افراد مسجد الحرام میں نماز ادا کریں گے

جدہ (آئی این پی ) کورونا کے باعث گزشتہ 7 ماہ کے تعطل کے بعد مسجد الحرام کے دروازے عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے عازمین کے لیے کھول دیے گئے، سعودی حکومت نے مقامی شہریوں اور وہاں مقیم غیر ملکیوں کو عمرے کی اجازت دے دی ، سعودی حکومت کی جانب سے بنائی گئی ایپ سے آن لائن

اجازت نامے حاصل کرنے والے افراد ہی عمرے کے لیے اہل ہوں گے، عمرے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنا لازم ہو گا،پہلے مرحلے میں روزانہ 6 ہزار عمرہ زائرین کو مسجد الحرام جانے کی اجازت دی گئی ہے، 18 اکتوبر سے روزانہ 15 ہزار عمرہ زائرین اور 40 ہزار افراد مسجد الحرام میں نماز ادا کر سکیں گے تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں کورونا کی وبا کے باعث عمرے کی عارضی معطلی کے بعد زائرین کے پہلے گروپ نے تقریبا سات ماہ بعد مسجد الحرام میں عمرے کی ادائیگی کا آغاز کردیا۔اتوار چار اکتوبر رات بارہ بجے کے بعد محدود عمرہ بحال کردیا گیا۔ مکہ مکرمہ میں سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ عمرہ زائرین کے استقبال کے لیے تیاریاں پہلے ہی مکمل تھیں۔ سعودی وزارت حج و عمرہ اور سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے اپنی ویب سائٹ پر تصاویر اور وڈیو شیئر کی ہیں جس میں عمرہ زائرین کے پہلے گروپ کو مسجد الحرام میں داخل ہوتے، احتیاطی تدابیر کی پابندی اور طواف کرتیدکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی حکومت نے اتوار چار اکتوبر سے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں اور اس کے ایک ماہ بعد بیرون مملکت سے زائرین کو عمرہ کی اجازت دی ہے۔ محدود عمرہ کی شروعات روزانہ چھ ہزار زائرین سے کی گئی ہے۔ پریذیڈنسی کے مطابق ابتدا میں طواف صرف دو لائنوں میں کیا جا رہا ہے- سو افراد 15 منٹ میں ساتوں چکر مکمل کرلیں گے۔ ایک گھنٹے میں 4 سو افراد 7 چکر لگا سکیں گے۔ اس طرح ایک دن میں 6 ہزار افراد آسانی سے عمرہ کریں گے۔ تیسری لائن بھی کھولی جاسکتی ہے جس میں 150 افراد ہوں گے۔ یہ 15 منٹ میں سات چکر لگا سکیں گے۔ اس سے طواف کرنے والوں کی فی گھنٹہ تعداد چھ سو تک پہنچ جائے گی۔ اس طرح 6 ہزار افراد ہر دس گھنٹے میں طواف مکمل کرسکیں گے۔ پریذیڈنسی نے مزید بتایا کہ عمرہ زائرین مسجد الحرام میں باب الجیاد اور باب ملک فہد سے داخل ہورہے ہیں پھر انہیں حرم مکی میں ایک خاص پوائنٹ پر جمع گیا اور وہاں سے شاہ فہد والی توسیع والے حصے میں جمع کرکے ان کی گروپ بندی کی گئی پھر گروپوں کو مطاف روانہ کیا جا تا رہاا۔ ہر گروپ میں سو افراد شامل ہیں۔ اجتماع کی جگہ سے گروپ کو طواف کے لیے مختص دولائنوں پر پہنچایا جارہا ہے۔ ہر لائن میں سو افراد شامل ہیں۔ طواف سے فراغت کے بعد گروپ کو دو رکعت طواف ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد طواف کی سنتیں پڑھنے پر انہیں صفا لے جایا جائے گا۔ جہاں وہ سعی کریں گے۔ عمرے سے فراغت کے بعد زائرین کو واپسی کے لیے مقرر جگہ لے جایا جائے گا۔ پریذیڈنسی نے بیان میں کہا کہ عمرہ زائرین کی گروپ بندی کے پوائنٹ مقر رکیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں روزانہ چھ ہزار زائرین کدی اور الشبیکہ میں جمع ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں روزانہ پندرہ ہزارعمرہ زائرین یہ کدی، الشبیکہ اور باب علی تین مقامات پر جمع ہوں گے۔ تیسرے مرحلے میں روزانہ 60 ہزار عمرہ زائرین یہ کدی، الشبیکہ، باب علی، الغزہ اور جرول مقامات پر جمع ہوں گے۔ چوتھے مرحلے میں سو فیصد گنجائش کے ساتھ ہو گا ( کدی، الشبیکہ، باب علی، غزہ اور جرول) مقامات پر جمع ہوں گے۔۔۔۔

close