اوپن اے آئی کا بائیوسیکیورٹی پروگرام، پاکستانی ریسرچرز کے لیے 50 ہزار ڈالر انعام کا موقع
دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی اور چیٹ جی پی ٹی کی خالق اوپن اے آئی نے پاکستانی ریسرچرز اور بائیوسیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کامیاب تحقیق پر 50 ہزار امریکی ڈالر تک کا انعام دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے جدید اے آئی ماڈلز کو حیاتیاتی خطرات کے ممکنہ غلط استعمال سے محفوظ بنانے کے لیے شروع کیے گئے بائیو بگ باؤنٹی پروگرام کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور انعامی رقم کو بڑھا کر 50 ہزار ڈالر کر دیا ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے۔
کمپنی نے پاکستان کو اہل ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستانی ریسرچرز، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور اے آئی سیفٹی سے وابستہ افراد اس پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
پروگرام کا مقصد کیا ہے؟
اوپن اے آئی کے مطابق اس خصوصی پروگرام کا مقصد جدید ترین اے آئی ماڈلز میں موجود بائیوسیکیورٹی حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ منتخب ماہرین کو ایسے طریقوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے ذریعے ماڈل کی حفاظتی پابندیوں کو غیر معمولی حالات میں بائی پاس کیا جا سکے۔
کمپنی خاص طور پر ایسے “یونیورسل جیل بریک” کی تلاش کر رہی ہے، یعنی ایسی تکنیک یا پرامپٹ جو ماڈل کے بائیوسیکیورٹی حفاظتی نظام کو مستقل طور پر متاثر کر سکے۔ صرف ایک یا محدود سوالات کے لیے حفاظتی نظام کو توڑنا انعام کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
اہلیت اور درخواست کا طریقہ
دلچسپی رکھنے والے ماہرین کو اوپن اے آئی کے مخصوص پورٹل پر جا کر اپنا نام، ملک، ادارے سے وابستگی اور متعلقہ تجربے کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ درخواست گزار کے لیے چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کا ہونا بھی ضروری ہے۔
درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد منتخب افراد کو پروگرام تک رسائی دی جائے گی، جبکہ کام شروع کرنے سے قبل انہیں نان ڈسکلوژر ایگریمنٹ (NDA) پر دستخط کرنا ہوں گے۔
انعام اور ٹیسٹنگ کی مدت
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی-5.5 یا جی پی ٹی-5.6 میں کامیاب یونیورسل جیل بریک کی نشاندہی کرنے والے ماہرین کو 50 ہزار ڈالر کا مکمل انعام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جزوی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی پر بھی کمپنی اپنی صوابدید کے مطابق انعام دے سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جی پی ٹی-5.5 پر ٹیسٹنگ کی آخری تاریخ 27 جولائی 2026 ہے، جس کے بعد پروگرام میں صرف فلیگ شپ ماڈل جی پی ٹی-5.6 شامل ہوگا۔
یہ پروگرام پاکستانی ٹیکنالوجی ماہرین اور محققین کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے اور اے آئی سیکیورٹی کے شعبے میں کردار ادا کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






