پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک کیبلز پر “اجازت کی شرط” عائد کرنے کی دھمکی دے کر عالمی ڈیجیٹل رابطوں سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اہم کیبلز میں AAE-1 (ایشیا، افریقہ، یورپ) شامل ہے، جو ہانگ کانگ سے اٹلی اور فرانس تک انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ FALCON اور Gulf Bridge کیبلز خلیجی ممالک کو بھارت اور مشرقی افریقہ سے جوڑتی ہیں۔
ڈیٹا ماہرین کے مطابق ان کیبلز کے ذریعے ہر قسم کا ڈیٹا منتقل ہوتا ہے، جس میں ویڈیوز، ای میلز، سوشل میڈیا، مالیاتی لین دین اور حکومتی مواصلات شامل ہیں۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان مرکزی ڈیٹا ٹریفک متبادل راستوں سے بھی گزرتا ہے، اس لیے مکمل عالمی خلل کا امکان محدود ہے، تاہم خلیجی ممالک کے لیے خطرہ برقرار ہے کیونکہ تمام ڈیٹا کو زمینی نیٹ ورکس پر منتقل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔
خاص طور پر قطر، جہاں AAE-1 کا اہم ٹرمینل موجود ہے، کسی بھی خلل سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی جغرافیائی ساخت اسے حساس بنا دیتی ہے، جہاں ایران آسانی سے کیبلز کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا مرمت کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 200 کیبل حادثات رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر جہازوں کے لنگر گھسیٹنے جیسے واقعات شامل ہوتے ہیں، تاہم مرمت کے لیے خصوصی جہاز درکار ہوتے ہیں جو طویل وقت تک ایک ہی مقام پر رہتے ہیں، جس سے وہ بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے 1982 کے سمندری قانون (UNCLOS) کے تحت ممالک کو خصوصی اقتصادی زون میں کیبل بچھانے کی اجازت ہوتی ہے اور ساحلی ریاستیں عموماً اس پر پابندی نہیں لگا سکتیں۔
اگرچہ ایران نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاہم اسے باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا، جس کے باعث قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






