اسلام آباد : وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا)بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ایسٹس سیکٹر کو گرے مارکیٹ سے نکال کر دستاویزی معیشت میں شامل کیا جائے گا، پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت لائسنسنگ اور قانونی فریم ورک کی تیاری جاری ہے۔لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز)کے زیر اہتمام “بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ جات” کے موضوع پر لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے وسیع مواقع موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت ڈیجیٹل ایسٹس مارکیٹ کو ملکی معیشت کا اہم ستون بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں، عالمی منڈی میں موثر کردار ادا کرنے کیلئے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی نہ صرف مالیاتی شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ گورننس، سپلائی چین اور دیگر شعبوں میں بھی نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات مستقبل کی معیشت کا اہم ستون بن چکے ہیں، حکومت اس جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے موثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ و شفاف مالیاتی نظام کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ورچوئل اثاثے محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بنیادی معاشی ڈھانچہ ہیں اور پیوارا قانونی فریم ورک اور لائسنسنگ کے ذریعے مارکیٹ کو محفوظ اور قابل اعتماد بنائے گا۔بلال بن ثاقب نے انڈسٹری کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور بلاک چین میں سرمایہ کاری میں اضافہ کی دعوت دی اور کہا کہ اس حوالے سے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






