سندھ رینجرز نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں خفیہ معلومات پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی سفاک اور مطلوب ترین دہشت گرد جاوید علی خان عرف سواتی کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم ضلع سوات کا رہائشی ہے اور حال ہی میں شکردرہ سوات میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کا مرکزی کردار تھا۔ ملزم نے 7 جون 2026ء کو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شکردرہ میں مقامی آبادی پر راکٹ لانچر اور بھاری ہتھیاروں سے اندھا دھند حملہ کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے میں 3 شہری جاں بحق اور ایک خاتون سمیت 2 افراد شدید زخمی ہوئے تھے جبکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کارروائی کے بعد ملزم فرار ہو کر کراچی آ گیا تھا اور یہاں روپوش رہ کر دہشت گردی کا نیا نیٹ ورک منظم کر رہا تھا۔
ملزم جاوید علی خان 2007ء میں فتنہ الخوارج کے فضل اللہ گروپ میں شامل ہوا تھا۔ اس نے لوکل کمانڈر اقبال حسین عرف ابو تراب اور دیگر کے ساتھ مل کر گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول شکردرہ، گورنمنٹ بوائز اسکول اور پولیس چوکی شکردرہ کو آئی ای ڈی دھماکوں سے تباہ کیا تھا۔
ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ ملزم تھانہ مٹہ پر حملہ کرنے، اسلحہ لوٹنے اور تھانے کو آگ لگانے جیسی سنگین وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروہ علاقے کی بااثر شخصیات کی جائیدادوں پر قبضے اور لوٹ مار کی سرگرمیوں میں بھی شامل تھا۔
سال 2008 میں آرمی آپریشن کے دوران ملزم مینگورہ میں روپوش رہا اور بعد میں ایران فرار ہو گیا۔ ملزم 2022 میں ایران سے واپس پاکستان آیا اور دوبارہ دہشت گردانہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ سندھ رینجرز نے گرفتار دہشت گرد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی سوات کے حوالے کر دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






