اپوزیشن اتحاد نے خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کے صدارتی فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ اپوزیشن اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے عوام نے گورنر راج کو مسترد کر دیا ہے۔
اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 11 اکتوبر کو آئینی و سیاسی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف ہے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
صدر آصف زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے فرمان پر دستخط کیے تھے۔ وفاق نے اس کی وجہ صوبے میں دہشت گردی، امن و امان کی خراب صورتحال، وفاق اور صوبے کے درمیان آئینی بحران اور پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاریوں کو قرار دیا تھا۔
نئے سیٹ اپ کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے اختیارات معطل ہیں، آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی صوبائی صدر جنید اکبر سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔






