موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 1.2 ارب ڈالر کی پانچویں قسط کے حصول کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں عالمی مالیاتی ادارے نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے اور سرکلر ڈیٹ کے اہداف حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ خطے کی صورتحال کی وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہوا ہے۔ زیرو ان فلو اہداف کے تحت گردشی قرضہ 1600 ارب روپے تک محدود رکھنا ہدف ہے۔
آئی ایم ایف کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان 15 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کرے گا۔ زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کے لیے سعودی عرب سے بروقت تعاون حاصل کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض اور 80 کروڑ ڈالر کے دیگر واجبات شامل ہیں، جبکہ رواں مالی سال ساڑھے 21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔
پاکستانی وفد نے آگاہ کیا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 برسوں میں 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے ہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران 9 ارب ڈالر کی خریداری مقامی مارکیٹ سے کی گئی۔ رواں مالی سال آئندہ 11 ماہ کے دوران ادائیگیوں کا پریشر کم ہو جائے گا۔ رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں واپس کرنے ہیں جن پر ساڑھے 3 ارب ڈالر سود ہے، یہ ادائیگی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 ارب ڈالر کم ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آج آٹو پالیسی پر خصوصی سیشن ہوگا۔






