آئی ایم ایف کا وزارت خزانہ سے عوامی عہدیداروں کے بینک اکاؤنٹس تک ایف بی آر رسائی کا مطالبہ

*وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع*

 

وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی گئی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق تکنیکی مذاکرات میں ایف بی آر کے ساتھ خصوصی سیشن ہوا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ 30 جون 2026 تک 13 ہزار 10 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔

 

گزشتہ مالی سال بجٹ خسارہ معیشت کا 2.9 فیصد رہا جبکہ پرائمری سرپلس 3634 ارب روپے رہا جو ہدف کے مطابق ہے۔ نان ٹیکس آمدن 5554 ارب روپے رہی۔

 

پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے تھا جبکہ 1567 ارب روپے جمع ہوئے جو ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ ہے۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ بھی سیشن ہوا جس میں سرکاری افسران کے اثاثوں اور انکم ٹیکس گوشواروں پر بات ہوئی۔ آئی ایم ایف نے گریڈ 17 سے 22 تک افسران اور عوامی عہدیداروں کے بینک اکاؤنٹس تک ایف بی آر کی رسائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ انسداد منی لانڈرنگ، ایف ایم یو اور اسٹیٹ بینک کو بھی اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔