لاہور ہائیکورٹ کا منی لانڈرنگ کیسز سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹیکس واجبات کے حتمی تعین سے پہلے بھی منی لانڈرنگ کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 31 صفحات پر مشتمل عدالتی نظیر جاری کی، جسے جسٹس خالد اسحاق نے تحریر کیا۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ منی لانڈرنگ ایک الگ اور خودمختار جرم ہے، جبکہ ٹیکس کی تشخیص اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات الگ قانونی کارروائیاں ہیں۔

فیصلے کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (اے ایم ایل اے) کے تحت کارروائی ٹیکس واجبات کے حتمی تعین سے مشروط نہیں، لہٰذا ٹیکس فراڈ سے متعلق مقدمات میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری رہ سکتی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ جرم سے حاصل ہونے والی رقم یا اثاثوں کا تعین تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ منی لانڈرنگ کے مقدمے میں کارروائی کے لیے بنیادی جرم میں سزا کا فیصلہ پہلے ہونا بھی ضروری نہیں۔

عدالتی فیصلے میں ٹیکس واجبات اور منی لانڈرنگ کے معاملات کو الگ قانونی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ منی لانڈرنگ کی ایف آئی آرز کو ابتدائی مرحلے پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کے مطابق فریقین کے مقدمات تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے، جبکہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں حقائق کا تعین دستیاب شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔