نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مسلم ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دوسرے کا پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات میں عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلم ممالک کے درمیان قریبی رابطوں، تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی مختصر وفد کے ہمراہ لندن سے نیویارک پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیراعظم اپنے خطاب میں عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیں گے۔ نیویارک میں قیام کے دوران وزیراعظم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اپنے ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، معیشت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی صدر نے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، جبکہ ایرانی وزیر داخلہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان پر تشکر کا اظہار کیا۔
ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی نیویارک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی امریکا روانہ ہو رہے ہیں۔ نیویارک پہنچنے کے بعد عباس عراقچی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ سے خود کو آزاد کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ایک اسرائیلی اخبار کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے فوجی و معاشی تعاون سے متعلق تجاویز کے تناظر میں اب وقت آگیا ہے کہ واشنگٹن خود کو ان مبینہ دباؤ سے آزاد کرے۔






