ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات سامنے آگئے

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوگئے جب کراچی میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار اور چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے درمیان مکالمہ میڈیا کے کھلے مائیک پر ریکارڈ ہوگیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے بار بار لقمہ دینے پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سات سے آٹھ پریس کانفرنسیں کرتے ہیں، پھر میں کرتا ہوں، اگر اس میں بھی آپ مجھے بولنے نہیں دیں گے تو کیسے چلے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی بتا چکے تھے کہ اس موقع پر وہ بات کریں گے۔ بعد ازاں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وہ آئندہ کبھی پریس کانفرنس نہیں کریں گے، جس پر فاروق ستار نے جواب دیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔ فاروق ستار کی جانب سے مزید سوالات لینے کی بات کے باوجود خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس اچانک ختم کردی اور وہاں سے چلے گئے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جنہیں سوال کرنے پر اختلاف ہوجائے، وہ عوام کی بات کیسے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ بنانے نکلے تھے، مگر آپس میں ہی نہیں بن پا رہی، پہلے اپنے اختلافات ختم کریں، پھر سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھیں۔ سعدیہ جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ ایک تھا، سندھ ایک ہے اور سندھ ایک رہے گا۔