//

اوور اسپیڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

لاہور (آئی این پی): پنجاب بھر میں اوور اسپیڈنگ کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ٹریفک قوانین پر سخت عملدرآمد کے نتیجے میں رواں ماہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں اوور اسپیڈنگ کے واقعات میں 29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق رواں ماہ اوور اسپیڈنگ پر ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 700 سے زائد گاڑی مالکان کو ای چالان بھی جاری کیے گئے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے بتایا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے رفتار کی حد 60 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے، جبکہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے اسپیڈ گن مشینوں اور جدید سیف سٹی کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مؤثر کارروائیوں کے باعث ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران چالان کے ساتھ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی قبضے میں لے کر متعلقہ تھانوں میں منتقل کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ لرنر پرمٹ یا ایکسپائر لائسنس کے ساتھ کار چلانے پر 5 ہزار روپے جبکہ موٹرسائیکل چلانے پر 2 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موٹرسائیکل پر تین سوار افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سی ٹی او نے واضح کیا کہ کار یا موٹرسائیکل لائسنس پر کمرشل گاڑی چلانے کی اجازت نہیں، جبکہ بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے پی ایس وی اور ٹرک و ٹرالر سمیت ہیوی گاڑیوں کے لیے ایچ ٹی وی لائسنس لازمی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close