بغیر ہیلمٹ کے سفر کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کی ایک بار پھر شامت آگئی ، سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں بغیر ہیلمٹ کے سفر کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف ٹریفک پولیس نے ایک بار پھر سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم کے احکامات پر مال روڈ اور پشاور روڈ سمیت شہر کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہوں پر ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی نافذ العمل کر دی گئی ہے اور شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی ناکے قائم کر کے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
چیف ٹریفک آفیسر فرحان اسلم نےتفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس سخت انفورسمنٹ کا مقصد ریونیو یا جرمانے اکٹھے کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کی قیمتی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جان لیوا سڑک حادثات میں 73 فیصد تعداد موٹرسائیکل سواروں کی ہوتی ہے اور حادثے کی صورت میں سر پر لگنے والی چوٹیں (ہیڈ انجری) اموات کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہیں، ہمیں ہر حال میں ان قیمتی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔
سی ٹی او راولپنڈی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل چلائی گئی ہیلمٹ انفورسمنٹ مہم کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جس کی بدولت سر کی چوٹوں کے کیسز میں 40 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سخت مہم کے تسلسل سے نہ صرف حادثات میں مزید کمی آئے گی بلکہ ہسپتالوں کی ایمرجنسیز پر بھی مریضوں کا لوڈ نمایاں طور پر کم ہوگا۔
ٹریفک پولیس حکام نے موٹرسائیکل سواروں پر زور دیا ہے کہ وہ ہیلمٹ چالان کے ڈر سے نہیں، بلکہ اپنی ذاتی حفاظت کے لیے پہنیں۔
سی ٹی او فرحان اسلم نے کہا کہ ہیلمٹ کا استعمال اور لین لائن ڈسپلن کی پابندی ہی آپ کے محفوظ سفر کی ضمانت ہے، لہٰذا شہری ذمہ داری کا ثبوت دیں تاکہ وہ چالان اور کسی بھی بڑے حادثے، دونوں سے محفوظ رہ سکیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






