میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن کارڈ کے اجرا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کارڈ کا اجرا اگلے مالی سال میں کرنے کی تجویز ہے۔
تفصیلات کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین، شہر کے انفرااسٹرکچر کے تحفظ اور تاریخی ورثے کی بحالی کے حوالے سے متعدد انقلابی اقدامات کا اعلان کیا۔
کے ایم سی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر کراچی نے بتایا کہ سٹی کونسل کی مزدور دوست پالیسی کے تحت کے ایم سی نے اپنے ساڑھے 11 ہزار ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کر دی ہے، جس کے بعد کے ایم سی میڈیکل انشورنس پالیسی نافذ کرنے والا ملک کا پہلا بلدیاتی ادارہ بن گیا ہے۔
میئر کراچی نے بتایا کہ ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کے غریب ملازمین کو علاج کے لیے سفارشیں کروانا پڑتی تھیں، لیکن اب سفارش کا کلچر ختم کر دیا گیا ہے اور ہر چھوٹے بڑے ملازم کو مساوی طبی سہولیات ملیں گی، اس انشورنس پالیسی کے تحت ملازمین ڈیڑھ لاکھ سے لے کر 6 لاکھ روپے تک کا مفت علاج ملک کے 200 سے زائد نامور ہسپتالوں سے کروا سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اگلے مالی سال سے ‘پنشن کارڈ’ کا اجرا تجویز کیا گیا ہے، جس سے پنشن اور بقایا جات کو لائن اپ کیا جائے گا۔
مرتضیٰ وہاب نے مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مالی سال سے کے ایم سی مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرائے گی اور ای-ٹرانسفر کے ذریعے ادائیگیاں کرنے والا پہلا بلدیاتی ادارہ بن جائے گا، تمام ادائیگیاں براہ راست ملازمین اور متعلقہ بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی، جس سے کاغذی کارروائی، روایتی مراحل کی تاخیر اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور مالیاتی نظام میں شفافیت آئے گی۔
میئر کراچی نے بتایا کہ سرکاری املاک اور اسٹریٹ لائٹس کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی کاموں کو روکنے کے لیے ایک خصوصی ‘ویجی لینس اسکواڈ’ قائم کر کے ان میں الیکٹرک بائیکس تقسیم کر دی گئی ہیں، ماضی میں سٹی وارڈنز کی گاڑیوں کے پیٹرول پر بھاری اخراجات آتے تھے، اب ان الیکٹرک بائیکس سے پیٹرول کی بھاری بچت ہوگی اور اسکواڈ کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔
کراچی کے تاریخی اور برطانوی دور کے شہری ورثے کی بحالی کا تذکرہ کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی نے شہر کی مخدوش تاریخی عمارات کی اصل شکل میں بحالی کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ سو سال پرانی برطانوی دور کی تاریخی ہوتی مارکیٹ، جو تجاوزات کی وجہ سے اپنا حسن کھو چکی تھی، اسے تجاوزات سے پاک کر کے اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے، اسی طرح ایمپریس مارکیٹ، مچھی میانی مارکیٹ، فریئر مارکیٹ اور لی مارکیٹ کی بحالی و تزئین کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تاریخی خالق دینا ہال اور کے ایم سی ہیڈ آفس کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے، جبکہ کراچی کی پہلی پبلک لائبریری ‘ڈینسو ہال’ کو اس کی اصل حالت میں بحال کر کے وہاں دوبارہ شاندار لائبریری قائم کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تاریخی ‘تیموریہ لائبریری’ کی تزئین و آرائش کا کام بھی مکمل کر کے اسے شہریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






