کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی آڈیو کال لیک، ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے۔لیک کال سے واضح ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مقصد پرتشدد حملے کر کے مذموم مقاصد حاصل کرنا تھا ۔
لیک آڈیو کال سے واضح ہے کہ شوکت میر اور خواجہ مہران کے درمیان راولاکوٹ میں دہشتگرد حملے اور لاشیں گرانےکی پیشگی منصوبہ بندی کی جارہی تھی ۔منظر عام پر آنے والی آڈیو کال میں شوکت نواز میر نے کہا کہ ’’جب تک راولاکوٹ میں بڑے پیمانےپر پرتشدد حملے اور لڑائی نہیں ہوتی ہم مظفرآباد اور میر پور میں کچھ نہیں کر پائیں گے ‘‘،منصوبے پرعمل درآمد کیلئے راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسز کی تعداد کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔’’ خواجہ مہران نے کہا کہ ’’سیکیورٹی فورسز راولاکوٹ میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے موجود ہیں ‘‘۔ شوکت نواز میر نے کہا کہ ’’میں پھر یہ بات دہرا رہاہوں کہ جب تک راولاکوٹ میں پرتشدد حملے اور لڑائی نہیں ہو گی ہم کچھ نہیں کر پائیں گے‘‘۔
ماہرین کے مطابق منظر عام پر آنےوالی آڈیو کال سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذموم عزائم واضح طور پر سامنے آ چکے ہیں، کال ثابت کرتی ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کی جانب سے پابندی کا فیصلہ بالکل درست ہے۔اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ حقیقت میں یہ کلعدم ٹولہ عوامی مسائل کی محض آڑ لے رہا تھا تاکہ ان کے مذموم مقاصد کے لئے زیادہ سے زیادہ نوجوان اور عوام ان کے ساتھ شامل ہو
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ حقیقت میں یہ کالعدم ٹولہ عوامی مسائل کی محض آڑ لے رہا تھا تاکہ ان کے مذموم مقاصد کے لئے زیادہ سے زیادہ نوجوان اور عوام ان کے ساتھ شامل ہو ں،شروع سے ہی یہ عوامی مسائل کی آڑ میں آزاد جموں اور کشمیر میں دنگا فساد پیدا کرنا چاہتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر ایجنڈا پوائنٹس پر رضامندی کے باوجود اس ٹولے کا اصرار تھا کہ 9 جون کو احتجاجی مارچ ہو کر ہی رہے گا ۔کالعدم ایکشن کمیٹی کا مقصد اس آڑ میں راولاکوٹ سے مظفرآباد اور میرپور تک فورسز پر حملے کرنا ،آگ لگانا اور لاشوں کا کھیل کھیلنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو انتشاری ٹولے سے کوئی رعایت نہیں کرنی چاہیے اور تمام پرتشدد عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہیئے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






