پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے تنظیمِ نو کے بعد 55 نرسنگ کالجز کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی، جبکہ چار غیر رجسٹرڈ کالجز کو طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے پیشِ نظر جرمانے کی ادائیگی کے بعد رجسٹر کیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے کو طویل عرصے سے انتظامی مسائل اور بدعنوانی کا سامنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نرسز کی شدید کمی ہے اور موجودہ افرادی قوت قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نرسنگ کونسل میں اصلاحات کے تحت ایک نئی 19 رکنی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جبکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کالجز کی رجسٹریشن اور انسپیکشن کے عمل میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جن کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مارچ 2025 کے بعد کسی نئے کالج کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی اور 425 درخواستیں انسپیکشن کی منتظر تھیں۔ نئی کونسل نے ترجیحی بنیادوں پر درخواستوں کا جائزہ لے کر 63 میں سے 55 کالجز کو منظوری دی۔
وفاقی وزیر نے والدین اور طلبہ کو خبردار کیا کہ وہ صرف رجسٹرڈ نرسنگ اداروں میں داخلہ لیں تاکہ ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ نرسنگ کونسل میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ تمام معاملات شفاف اور میرٹ کے مطابق چلائے جا سکیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






