پاکستان ریلویز کی مہنگی ترین گرین لائن ٹرین کی بوگیوں کی خطرناک صورت حال سامنے آ گئی

پاکستان ریلویز کی مہنگی ترین گرین لائن ٹرین کی خستہ حالی بے نقاب ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز کی مہنگی ترین گرین لائن ٹرین کی بوگیوں کی انتہائی خراب اور خطرناک حالت سامنے آ گئی ہے۔ کراچی آنے والی گرین لائن ٹرین کی دو بوگیوں کے درمیان نصب اسٹیل پلیٹ ٹوٹ گئی، جس کے باعث مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود ریلوے عملے نے مستقل مرمت کی بجائے عارضی اقدامات کیے اور ٹوٹی ہوئی اسٹیل پلیٹ کو جوڑنے کے لیے کپڑے کی پٹی استعمال کر کے ٹرین کو دوبارہ روانہ کر دیا گیا۔مسافروں نے انکشاف کیا کہ گرین لائن کی برتھوں کے اسکرو اور ہک بھی گرنے لگے ہیں، جب کہ برتھوں پر چڑھنے کے لیے لگائے گئے پائیدان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ان کے اسکرو مسلسل ڈھیلے ہو رہے ہیں۔ مسافروں کے مطابق پائیدانوں کے اسکرو گرنے کے باعث کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے اور مسافروں کے گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

گرین لائن میں سفر کرنے والے شہریوں نے پاکستان ریلویز سے فوری مرمت، مکمل تکنیکی جانچ اور ہنگامی حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگے کرایوں کے باوجود مسافروں کو غیر محفوظ ماحول میں سفر کرایا جا رہا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ اے سی سلیپر، اے سی بزنس اور اے سی اسٹینڈرڈ کوچز کے ایئر کنڈیشنرز کام نہیں کر رہے، جب کہ شدید گرمی میں پنکھے بھی بند ہونے سے کوچز میں حبس بڑھ گیا ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شدید گرمی کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین کی حالت غیر ہو گئی، مسافروں نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی ایکسپریس پہلے ہی 6 گھنٹے تاخیر کا شکار تھی، تاہم نئی فنی خرابی کے بعد مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مسافروں نے فوری متبادل انجن فراہم کرنے، پاور وین کی مرمت اور ٹرین میں بجلی بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close