ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود مانگنے کا امریکی مطالبہ کیا گیا یا نہیں؟پاکستان نے واضح کردیا

 دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران پر حملے کیلئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے متعلق کسی امریکی مطالبے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ یا غیر باضابطہ مطالبہ موصول نہیں ہوا، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بات زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام پالیسی فیصلے قومی مفاد میں کیے جاتے ہیں بریفنگ میں ترجمان نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام قانونی و بین الاقوامی طریقہ کار استعمال کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کی کوئی شق موجود نہیں، جبکہ پاکستان متعلقہ بین الاقوامی فورمز کے فیصلوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی کو چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں مقیم تارکین وطن کی بڑی تعداد کے پیش نظر مجموعی صورتحال کو غلط رنگ دینا درست نہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close