اسلام آباد : وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں بڑا فرق یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں جبکہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک سال قبل پی ایم اے کاکول میں کیڈٹس سے خطاب کے دوران پہلگام واقعہ پر پاکستان کا مؤقف واضح کیا تھا۔ ان کے مطابق 24 اپریل 2025 کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے بھارتی الزامات کا بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ 26 اپریل 2025 کو وزیراعظم نے کاکول میں اپنے تاریخی خطاب میں پہلگام واقعہ کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے ہوئے بھارت کے الزامات کو مسترد کیا اور زور دیا کہ ایسے واقعات کی آڑ میں بلیم گیم کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلگام واقعہ پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا، تاہم بھارت نے کبھی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت نہیں کی۔ ان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف عملی جنگ لڑ رہا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے ہو یا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی، ان کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے مؤثر سفارتی مؤقف کے باعث بھارت دفاعی پوزیشن پر چلا گیا اور پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور 600 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق بھارت نہ صرف دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے بلکہ پانی کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ پانی اس کی ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ کاکول میں وزیراعظم کا خطاب سفارتی سطح پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا اور پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مضبوط ہوا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






