حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، ان پڑھ آنکھیں اور درد مند کان

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

گوجرانوالہ کے مشینسٹ انجنئیر ونسٹ ڈیوڈ نے ہفتے کے آخر میں مزدوروں کی تنخواہ کا حساب کرنے کے لئے حاضری رجسٹر کھولا۔مزدور برکت مسیح پچھلے ہفتے دو دن غیر حاضر رہا تھا۔ اُس کی نہ صرف حاضری لگی ہوئی تھی بلکہ اُس نے ان دنوں کی تنخواہبھی وصول کر لی تھی۔ ونسنٹ آگ بگولا ہو گیا۔ اُس نے برکت سے پوچھا ایک تو غیر حاضری کرتے ہو اوپر سے جھوٹ اور بے ایمانیبھی کرتے ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ کیا ہوا برکت نے پوچھا۔ تم نے کام بھی نہیں کیا اور تنخواہ بھی لے لی۔ برکت کا جواب سُن کرونسنٹ ڈیوڈ لرز گیا۔ “ہم تو اندھے ہیں۔ ہمیں کیا پتہ رجسٹر پر کیا لکھا ہے۔ ہم پڑھنا لکھنا تو نہیں جانتے- جہاں مُنشی نے کہا وہاںانگوٹھا لگا دیا”۔ ونسنٹ کو خُدا نے درد مند دل اور کان دئے تھے۔اُسے خیال آیا کہ قصور برکت کا تو نہیں میرا ہے۔ میں اُس سےمزدوری کرواتا ہوں کبھی اُسے پڑھنا لکھنا سکھانے کا سوچا ہی نہیں۔ اُس نے سوچا کہ اس کے عُذر کی حقیقت معلوم کروں۔ ایسےہی بہانہ بنا رہا ہے یا کُچھ سیکھے گا بھی۔ “ پڑھنا لکھنا سکھاؤں تو سیکھو گے”۔ کیوں نہیں، سیکھوں گا۔ برکت نے جواب دیا۔

اگلے ہفتے سے ونسنٹ ڈیوڈ نے تمام مزدوروں کے لئے دہاڑی کے چھ گھنٹے کام اور دو گھنٹے پڑھنے لکھنے کے لئے رکھ دیے۔ سب سےپہلے اُنہیں اپنا نام لکھنا اور دستخط کرنا سکھایا، پھر نمبروں کی پہچان کروائی۔ پھر عام گفتگو اور کام سے متعلق لفظ سکھائے اوراس طرح مزدوروں کا تعلیم بالغاں کا پروگرام شُروع ہو گیا۔ یہ مزدور سریے کو توڑنے موڑنے کا کام کرتے تھے اُنہیں سریے کو موڑ کرلفظوں کی شکلیں بنانا سکھائیں۔ پھر ونسنٹ ڈیوڈ کو خیال آیا۔ لکھنا پڑھنا صرف میرے مزدوروں کو نہیں علاقے کے تمام ان پڑھمزدوروں کو آنا چاہئے۔ اُنہی دنوں اُن کے چرچ کا ادارہ تعلیم بالغاں کا پروگرام چلانے کیلئے ایک منیجر ڈھونڈ رہا تھا۔ پادری صاحبنے پوچھا تعلیم بالغاں کا کام کرو گے۔ یہ بہت بھاری پتھر تھا۔ برکت کے سوال سے ہزار گُنا بھاری۔ ونسنٹ ایک منافع بخش کاروبار کامالک تھا۔ نہایت خوشحال تھا اور اُس پر اُس کے وسیع کُنبے کی کفالت کی ذمہ داریاں تھیں۔ تعلیم بالغاں کا کام سنبھالنے کا مطلبکاروبار چھوڑنا تھا۔

ونسنٹ نے یہ اعصاب شکن امتحان اونچے درجے میں پاس کیا اور کاروبار چھوڑ کر تعلیم بالغاں سنبھالنے کا فیصلہ کر لیا۔ ونسنٹ کےوالد اور خاندان کے قریبی لوگوں نے سوچا ونسنٹ کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ ونسنٹ نے اُس کے بعد پیچھے مُڑ کرنہیں دیکھا۔ جو کام اپنی فیکٹری سے شروع کیا وہ پہلے مسیحی برادر دی میں پھیلایا لیکن جلد یہ احساس ہوا کہ غربت ختم کرنی ہےتو سب لوگوں کی ایک ساتھ مدد کرنا پڑے گی چند لوگوں کی الگ سے مدد کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پھر تعلیم بالغاں کے پروگرام میںتمام لوگوں کو شامل کر لیا گیا۔

ونسنٹ کو کام شروع ہوئے کُچھ عرصہ ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی ۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز ورکس پروگرامشروع کیا۔ اور پہلے سے موجود فلاحی کاموں کا جائزہ لینا شروع کیا تاکہ اچھے پروگرام پھیلانے میں مدد کی جائے۔ اس مقصد کےلئے مختلف اداروں کے سربراہوں کو اپنا کام ایک اعلی سطح کی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس کمیٹی کااجلاس پی ٹی وی لاہور کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈاکٹر مُبشر حسن، ڈاکٹر غلام حُسین، پی ٹی وی کے جنرل مینیجر اسلماظہر صاحب اور ایک اور صاحب موجود تھے۔ ونسنٹ ڈیوڈ دفتر میں داخل ہوا تو کمیٹی نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں۔ ونسنٹ نے کہامیں تعلیم بالغاں کا کام کرتا ہوں۔ اس پر سب نے زوردار قہقہہ لگایا۔ سب سے اونچا قہقہہ اسلم اظہر صاحب کا تھا۔”اچھا بالغوں کوبھی پڑھایا جا سکتا ہے” سب نے بیک زبان پوچھا۔ جی ونسنٹ نے جواب دیا۔ کتنے وقت میں ایک بالغ کو پڑھایا جا سکتا ہے۔ اگلاسوال تھا۔ پانچ منٹ میں۔ ونسنٹ نے جواب دیا۔ سب نے چونک کر ونسنٹ کی طرف دیکھا۔ اب ونسنٹ کے قہقہہ لگانے کا وقت تھا۔ ( دلہی دل میں)۔

ونسنٹ نے کہا اسلم اظہر صاحب آپ ٹی وی کے گیٹ پر کھڑے چوکیدار کو اندر بلائیں میں آپ سب کے سامنے اُسے پانچ منٹ میںپڑھنا سکھاؤں گا۔ چوکیدار آگیا۔ ونسنٹ نے اُس سے پوچھا میاں پڑھنا لکھنا جانتے ہو۔ اُس نے کہا نہیں۔ اچھا تم بیٹھ جاؤ میں تمہیںپڑھنا لکھنا سکھاؤں گا۔ چوکیدار گھبرا گیا۔ اُس نے کہا نہیں صاحب ہم سے یہ کام نہیں ہو سکتا- ونسنٹ نے کہا تُم گھبراؤ نہیں۔کھانا کھا کے آ جاؤ ہم پھر بات کریں گے-

کھانے کے بعد محفل سجی۔ ونسنٹ نے چوکیدار سے پُوچھا۔ جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں اُنہیں جانتے ہو۔ ہاں، چوکیدار نے کہا۔ ان کیتصویر بھی پہچان لو گے۔ جی۔ میں چار لفظوں کی تصویر لکیروں میں بناؤں گا۔ تُم نے وہ شکلیں یاد کرنی ہیں۔ ٹھیک ہے چوکیدار نےکہا۔ ونسنٹ نے لیٹر سائز کے چار کاغذوں پر مارکر سے چار لفظ لکھے۔ تا، لا، جا، نا۔ اُن کی آواز بتائی۔ پھر دو دو کاغذوں کو ساتھرکھا۔ تالا، جالا، لاتا، لانا، ناتا اور اسی طرح کے لفظ بنائے جو پہلے نہیں سکھائے تھے۔ چوکیدار نے سب لفظ پڑھ لئے۔ پانچ منٹ میںوہ پڑھنا سیکھ گیا۔ پیپلز ورکس پروگرام کی ٹیم تعلیم بالغاں کے جادُو کی قائل ہو گئی۔ یہ جادُو جنرل ضیاء کے دور میں بھی قائم رہااور ضیا الحق کے زمانے میں ونسنٹ ڈیوڈ کو ٹی وی پروگرام کے ذریعے تعلیم بالغاں کے کام کی اجازت دی گئی۔ یہ پروگرام آج بھیپاکستان کے طول و عرض میں کام کر رہا ہے۔ آپ بھی چاہیں تو اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے مُلک میں پڑھے لکھے بالغوں کوبھی تعلیم کی ضرورت ہے اپنے خوف سے آزاد ہونے کیلئے۔۔۔۔۔

close