حق نا حق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، عوام کی قیادت کا کیا طریقہ ہے؟

جنرل مُشرف کی حکومت میں اُن کے وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے میں خسارہ پورے کرنے کے نام پر مختلف شہروں میں ریل کی پٹڑیوں کے ارد گرد قائم ریلوے مزدوروں کی بستیاں گرا کر گالف کلب اور مہنگے کاروباری پروگرام شروع کئے۔ ریلوے سے […]

حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، پیاسا کنواں

میرے اُستاد اختر حمید خان کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا مسئلہ اقتصادی نہیں اخلاقی ہے۔ اور اخلاقی مسئلہ کیا ہے، چوری اور کام چوری۔ اس کا حل کیا ہے۔ عام آدمی کی عزت کریں۔ اُس سے سیکھیں اور اُس کو اپنا بوجھ اُٹھانے کا […]

حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، ایک کروڑ لوگوں کو گھر کیسے ملا؟

میرے اُستاد اختر حمید خان کہا کرتے تھے جب ترقی غریب کے پاس نہیں پہنچتی تو غریب ترقی کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی پچھلے پچھتر سالوں میں یہی ہوا ہے۔ پاکستان بنا تو 75 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی۔ پر […]

حق ناحق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، پاکستان میں انڈہ توڑنے کا علم کون جانتا ہے؟

انڈہ توڑنے کے دو طریقے ہیں۔ انڈہ اندر سے ٹُوٹے تو اس کا مطلب ہے ایک نئی زندگی آگئی ہے۔ باہر سے توڑا جائے تو اس کا مطلب ہے زندگی ختم ہو گئی۔ بظاہر ایک ہی کام ہوا ہے، انڈہ ٹُوٹا ہے۔ لیکن دو متضاد […]

حق ناحق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، عمران خان، میکیاویلی اور اشوکا

عمران خان صاحب نے ایک تفریحی جہاد کے ذریعے حکومت میں واپس آنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ اُن کی سیاست کو سمجھنے کے لئے کُچھ بنیادی سوال اُٹھانا ضروری ہیں-وہ اس لئے حکومت میں واپس آنا چاہتے ہیں تاکہ وہ “چوروں” کو پکڑ […]

حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، روٹی۔ کھیتوں میں بھُوک نہیں اُگنی چاہیئے

انگریز کے آنے کے بعد ہمارے مُلک میں دُنیا کا سب سے بڑا نہری نظام قائم ہوا۔ 1885 سے 1925 کے درمیان لاکھوں ایکڑ رقبہ آباد ہوا۔ گندم اور کپاس کی افراط ہو گئی ۔ لیکن زرعی زمینوں کا بڑا رقبہ غیر حاضر زمینداروں کے […]

حق ناحق، ممتاز دانشور فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، روٹی کپڑا اور مکان

پاکستان میں 1970 کی دہائی میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ گھر گھر پہنچ گیا۔ یہ پیپلز پارٹی کا پروگرام تھا۔ 1970 سے 1980 کی دہائی میں بھُٹو صاحب کی حکومت نے کئی قدم اُٹھائے لیکن ان میں سے کوئی خواب پُورے نہ ہو سکے- […]

حق ناحق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، شرف الدین دیوانہ

مُلتان میں جب اُردو اکیڈیمی بنی تو اس کا نام اُردو اکادمی رکھا گیا۔ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ اکادمی کا مطلب اک آدمی ہے۔ جو شخص کس ادارے کی سی وسعت اور ہمہ گیریت رکھتا ہوں اور اُس کی رُوح رواں ہو تو […]

حق ناحق فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، شنگرام شنگرام چولبے چولبے، بنگالی پیاروں کی یاد میں

پنجاب یونیورسٹی میں 1968 سے 1970 کے درمیان بہت بڑی تعداد میں مشرقی پاکستان سے نوجوان طالب علم ہمارے ہم جماعتوں اور دوستوں میں شامل تھے۔ یہ نہایت ، ذہین، خوبصورت ، بہادر اور خواب دیکھنے والے لوگ تھے۔ جن کی آنکھوں میں ستارے چمکتے […]

حق ناحق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، چاچا مُسلم لیگی

پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس 1960 کی دہائی کے آخری سالوں میں بنا۔ یونیورسٹی کی گہما گہمی کا مرکز نہر کے کنارے کینٹین اور ہاسٹل کی دُنیا میں واقع کیفیٹیریا تھے۔ ان دونوں جگہوں پر جن لوگوں کی خوبصورت یادیں کبھی میرے حافظے سے محو نہیں […]

حق ناحق، فیاض باقر کی سلسلہ وار تحریر، عمران خان سے صاحب سلامت

میں نے 1993 میں یُو این ڈی پی میں مقامی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو ماحولیاتی مسائل اور ترقیاتی مسائل حل کرنے کے لئے گرانٹ دینے کا پروگرام چلانا شروع کیا۔ میرے اُستاد اختر حمید خان تھے۔ اُنہوں نے پہلا سبق مُجھے یہ دیا […]

close