پاور ڈویژن نے پیک ریلیف اسٹریٹیجی سے متعلق پالیسی بیان میں کہا ہے کہ جولائی تا فروری بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی 71 پیسے فی یونٹ سستی ہوئی۔
ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ریلیف سسٹم اصلاحات، ریلیف پیکجز، میرٹ آرڈر پر عملدرآمد اور بہتر پلاننگ کے باعث ممکن ہوا، کم لاگت والے ذرائع کے استعمال اور پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال سے بھی لاگت میں کمی لائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اور ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تاہم پیک آورز میں کھپت میں اضافہ بڑا چیلنج ہے، مہنگے ایندھن کے استعمال سے بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک روزانہ تقریباً 2.25 گھنٹے لوڈ مینجمنٹ کی جائے گی تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کر کے قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے، اس اقدام سے تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافے سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






