//

آزاد کشمیر کے مسائل کا حل مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم میں ہے، چوہدری محمد سرور

لاہور (آئی این پی): سابق گورنر پنجاب اور نیشنل پبلک فورم کے چیئرمین چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات، تحمل اور باہمی افہام و تفہیم میں مضمر ہے، جبکہ وفاقی حکومت کو کشمیری عوام کے مطالبات پر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

لاہور میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے تنازعات اور جنگیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر حل ہوئی ہیں، اس لیے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھی تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پاکستان کے دشمن اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور آزاد کشمیر کی صورتحال کی بازگشت برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ چکی ہے، اس لیے تمام فریقین کو قومی مفاد، دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے، جبکہ ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کا راستہ اپنائے اور عوامی مفاد میں لچک کا مظاہرہ کرے۔

سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ پرتشدد واقعات پر پوری قوم تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین صبر، برداشت اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے ایسا حل نکالیں گے جو آزاد کشمیر کے عوام کی خواہشات اور پاکستان کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close