خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی باتیں: آئین کیا کہتا ہے؟

*خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی باتیں: آئین کیا کہتا ہے؟*

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ستمبر کے آخری ہفتے میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ مؤخر کر کے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دینے کے بعد وفاقی وزرا اور گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق بیانات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا آئینی طور پر ممکن ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر حالات آئینی تقاضا کریں تو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا کہ جب صوبے کی صورتحال ایسی ہوگی جس میں ضرورت پڑے تو آئین میں شق موجود ہے، اور جب صدر، وزیراعظم اور دیگر اداروں کے ذمہ دار محسوس کریں گے تو ایسا قدم اٹھایا جائے گا۔

*آئینی طریقہ کار کیا ہے؟*
آئین پاکستان کے دسویں باب کے تحت کسی صوبے میں ہنگامی حالت یا گورنر راج کا نفاذ ممکن ہے۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اختیار صدر پاکستان کے پاس ہے۔ اگر صدر مطمئن ہوں کہ پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی انتشار سے ایسا خطرہ ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے بس میں نہیں، تو ایمرجنسی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا صدر کے اقدام کی صورت میں 10 دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری لازمی ہے۔ ایمرجنسی کے دوران وفاقی پارلیمنٹ صوبے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے اور وفاق صوبائی انتظامیہ کو ہدایات دے سکتا ہے۔

آرٹیکل 234 گورنر راج سے متعلق ہے۔ عام حالات میں انتظامی اختیارات وزیراعلیٰ اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 234 تب حرکت میں آتا ہے جب گورنر صدر کو رپورٹ بھیجے کہ صوبائی حکومت آئینی طریقے سے کام نہیں کر سکتی۔ اس رپورٹ پر صدر تمام اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو دے سکتے ہیں، اور صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات وفاقی پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

*ایمرجنسی اور گورنر راج میں فرق*
ایمرجنسی کا جواز جنگ، بیرونی جارحیت یا بڑا اندرونی انتشار ہے، جبکہ گورنر راج کا جواز آئینی مشینری کا ناکام ہونا ہے۔ ایمرجنسی میں صوبائی حکومت کے اختیارات کو ہدایات کے ذریعے چلایا جاتا ہے، گورنر راج میں پوری صوبائی حکومت معطل ہو جاتی ہے۔

ہنگامی حالات میں بھی ہائی کورٹ کے اختیارات برقرار رہتے ہیں، آئین اس کا سخت تحفظ فراہم کرتا ہے۔

*مدت اور توثیق*
آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان 30 دن کے اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھنا ہوتا ہے، یہ دو ماہ بعد ازخود ختم ہو جاتی ہے جب تک مشترکہ اجلاس توسیع کی منظوری نہ دے۔ اگر دونوں ایوانوں کی اکثریت مسترد کر دے تو نفاذ فوری ختم ہو جاتا ہے۔

آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی ابتدائی مدت صرف دو ماہ ہے، مشترکہ اجلاس ایک وقت میں صرف دو ماہ کی توسیع کر سکتا ہے اور مجموعی مدت 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

*کیا عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے؟*
آرٹیکل 236 کے مطابق دسویں باب کے تحت کیے گئے اقدام کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، تاہم ماضی میں تقریباً تمام ایمرجنسیز اور گورنر راج کو اس بنیاد پر چیلنج کیا جاتا رہا ہے کہ اس سے آئین کی دیگر بنیادی شقوں یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

*ماضی میں کتنے گورنر راج لگے؟*
پاکستان میں اب تک 15 بار گورنر راج لگ چکا ہے۔ تین بار پنجاب، تین بار سندھ، تین بار صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)، چار بار بلوچستان اور دو بار مشرقی بنگال میں۔ خیبر پختونخوا میں تین بار – 16 فروری 1975 سے 3 مئی 1975، 25 فروری 1994 سے 24 اپریل 1994، اور 12 اکتوبر 1999 سے 30 نومبر 2002 تک۔

آئینی جائزے کے مطابق محض کسی سیاسی جماعت کے احتجاج یا لانگ مارچ کے اعلان پر خود بخود ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں ہوتا، اس کے لیے سیکیورٹی کا شدید بحران یا آئینی مشینری کی مکمل ناکامی ثابت ہونا ضروری ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کو ممکنہ جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو وزیراعلیٰ اور کابینہ کے اختیارات معطل یا گورنر و وفاق کو منتقل ہو جائیں گے، صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات وفاقی پارلیمنٹ کے پاس چلے جائیں گے اور صوبائی انتظامیہ براہ راست وفاق یا گورنر کی ہدایات کی پابند ہوگی۔