پہلے ہتھیار کون ڈالے گا؟ غزہ امن معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

غزہ میں جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے انتظامی نظام سے متعلق ایک مجوزہ روڈ میپ سامنے آیا ہے، جس میں حماس کی مرحلہ وار غیر مسلحی، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کے قیام کو باہمی طور پر منسلک کیا گیا ہے۔

چار صفحات پر مشتمل اس منصوبے کے مطابق ہر مرحلہ اسی وقت مکمل ہوگا جب متعلقہ فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد “زیرو ٹرسٹ” اصول پر رکھی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی فریق پر مکمل اعتماد کرنے کے بجائے ہر پیش رفت کی تصدیق کی جائے گی۔

دستاویز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں غزہ میں موجود چھوٹے مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد حماس اپنے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کے عمل کا آغاز کرے گی۔ اس عمل میں سرنگوں کے نیٹ ورک، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات کو ختم کرنا شامل ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق حماس کے فوجی ڈھانچے کے خاتمے کا مرحلہ دیگر مراحل کے مقابلے میں زیادہ وقت لے سکتا ہے۔

روڈ میپ میں تجویز دی گئی ہے کہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد غزہ میں قائم ہونے والی نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کو سکیورٹی اور اسلحے پر مکمل اختیار حاصل ہوگا، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس عبوری دور میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کرے گی۔

تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال اس مجوزہ منصوبے یا اس کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث اس کے عملی نفاذ سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں۔