آئل انڈسٹری میں ٹیکس چوری کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں ایک نجی کمپنی نے کسٹم بانڈڈ ویئر ہاؤس سے 2 ارب 38 کروڑ روپے کا پیٹرول خفیہ طور پر منتقل کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق ڈیوٹی، ٹیکسز اور لیوی کی مد میں قومی خزانے کو سوا ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس ٹیکس چوری کا انکشاف نجی پیٹرولیم کمپنی کے درآمدی کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران ہوا، جبکہ بن قاسم پورٹ پر قائم کسٹم کے ویئر ہاؤس میں اسٹاک کی فزیکل انسپکشن کے ذریعے یہ معاملہ ثابت ہوا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ نجی کمپنی نے 3 درآمدی کنسائمنٹس کے ذریعے 18,048 میٹرک ٹن پیٹرول منگوایا تھا، تاہم کسٹم بانڈڈ ویئر ہاؤس میں فزیکل جانچ کے دوران کمپنی کے پاس صرف 9,699 میٹرک ٹن پیٹرول کا اسٹاک پایا گیا، جبکہ 8,348 میٹرک ٹن پیٹرول اسٹاک سے غائب تھا۔
اس حوالے سے نجی کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کسٹم کورٹ میں درج کیے گئے مقدمے کی دستاویز بھی سامنے آ گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک اور پیٹرولیم کمپنی پر اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا کیس بنایا جا چکا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






