پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی بیک اسٹاپ فیسلٹی حاصل کرنے کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے یہ درخواست زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور معاشی استحکام کے لیے امریکی وزیر خزانہ کو ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کے تحت بھیجی ہے، جس میں پانچ سال کے لیے مالی معاونت طلب کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو اس سے روپے پر دباؤ کم کرنے، بیرونی مالیاتی استحکام بہتر بنانے اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکی حکام نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے حکام نے تاحال درخواست کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی ادارے کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ہے، جس کے لیے حکومت نے ٹیکس اصلاحات، اخراجات میں کمی اور دیگر معاشی اقدامات کیے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان نے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرامز اور دوست ممالک کی مالی معاونت سے مدد حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق عالمی اور علاقائی صورتحال، توانائی کی قیمتیں اور سپلائی چین کے مسائل اب بھی ملکی معیشت کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






