صنعا (آئی این پی): آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی آبنائے باب المندب کو مؤثر طور پر بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی اہم ترین تیل بردار آبی گزرگاہوں میں سے ایک متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے ساتھ اقتصادی سست روی یا کساد بازاری کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ 2023 سے حوثیوں کے بحری حملوں کے باعث متعدد تجارتی جہاز افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ترسیلی اخراجات اور سفر کا دورانیہ پہلے ہی بڑھ چکا ہے۔
توانائی امور کے ماہر رچرڈ برونز کے مطابق اگر باب المندب بند ہو گئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حوثیوں کے اعلان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران شدت اختیار کرنے کی صورت میں یہ قیمت 115 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکی خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل سے زائد جبکہ متحدہ عرب امارات کے مربن آئل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔
کپلر کے کموڈیٹی ریسرچ ڈائریکٹر میٹ اسمتھ کے مطابق اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر سعودی عرب کی بحیرہ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ سے ایشیا جانے والی تیل کی ترسیل ہوگی۔ اگر بحری راستہ بند ہوا تو آئل ٹینکرز کو جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر کرنا پڑے گا، جس سے ایشیائی ریفائنریوں کو تیل کی فراہمی میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






