مریم نواز کا اعلان، ہر تحصیل میں نواز شریف اسکول، طلبہ کو ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس دینے کا منصوبہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے کی ہر تحصیل میں نواز شریف اسکول قائم کیے جائیں گے، جبکہ طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور تعلیم معاشرتی تفریق ختم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
عارف والا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کو جدید تعلیمی اداروں میں تبدیل کر رہی ہے، جہاں امیر اور غریب بچوں کو یکساں تعلیمی سہولیات اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بارشوں کے موسم میں بچوں کو غیر محفوظ مقامات پر جانے سے روکیں۔ وزیراعلیٰ نے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ تعمیر مکان کی چھت گرنے سے بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے نالوں، ٹرینوں یا کھلے مین ہولز میں گرنے کے واقعات انہیں شدید تکلیف پہنچاتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو کھلے مین ہولز بند کرنے کی ہدایات دے رہی ہے، تاہم بعض عناصر رات کے وقت ان کے ڈھکن چوری کر لیتے ہیں، جس سے شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے کروڑوں عوام اور لاکھوں طلبہ کی ذمہ داری حکومت پر ہے، اسی لیے تعلیم اور بچوں کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کے لیے محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے گرین الیکٹرک بسوں کا دائرہ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ فخر سے کہیں کہ وہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت سرکاری اداروں میں بھی وہی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو مہنگے نجی اسکولوں میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف اسکول آف ایمننس میں داخلوں کے لیے طلبہ کی بڑی تعداد نے دلچسپی ظاہر کی، جہاں محدود نشستوں کے لیے ہزاروں امیدواروں نے ٹیسٹ دیے۔ مریم نواز نے کہا کہ ان اسکولوں میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیونکہ صلاحیت کا تعلق مالی حیثیت سے نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مزید 50 ہزار ہونہار طلبہ کو اسکالرشپس دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں 40 ارب روپے کی لاگت سے بنیادی سہولیات کی کمی دور کی جا رہی ہے، جن میں نئے کلاس رومز، فرنیچر، واش رومز، صاف پانی اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومت اسکولوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبارٹریز قائم کر رہی ہے، جبکہ پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) کی لیبز بھی بنائی جا رہی ہیں تاکہ طلبہ جدید علوم میں مہارت حاصل کر سکیں۔
انہوں نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور روبوٹکس سیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کامیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مہارتیں انتہائی اہم ہوں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور جلد ہی صوبے بھر میں 300 جدید اسکول قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، جو سرکاری تعلیمی نظام پر اعتماد کی علامت ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






