سعودی عرب کا کاروبار کے حوالے سے اہم اعلان

 سعودی عرب نے 24 گھنٹے کاروبار چلانے سے متعلق نئے ضوابط جاری کر دیے۔

سعودی گزٹ کے مطابق مملکت نے 24 گھنٹے کاروبار چلانے کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت کاروباری ادارے سالانہ مقررہ فیس (زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ سعودی ریال) ادا کر کے چوبیس گھنٹے کام کر سکیں گے۔

سعودی عرب کی وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ کے مطابق چوبیس گھنٹے کام کرنے کے لیے متعلقہ بلدیہ اور پولیس سے پیشگی منظوری، مؤثر میونسپل لائسنس اور الیکٹرانک اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ اجازت نامہ بنیادی طور پر رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کے لیے ہوگا، جبکہ رمضان اور عید کے دوران اس پر الگ موسمی قواعد لاگو ہوں گے۔

نئے ضوابط کے تحت وزیرِ بلدیات کو فیس مقرر کرنے اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر بعض کاروباری سرگرمیوں کو فیس سے مستثنیٰ قرار دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

ضوابط کے مطابق وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ توسیع شدہ اوقاتِ کار کے دوران کام کرنے والے ملازمین سے متعلق قواعد وضع کرے، تاکہ سعودی لیبر قانون اور متعلقہ ضوابط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ کاروباری اداروں پر یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ وزارتی فیصلوں کے مطابق 24 گھنٹے کاروبار چلانے کے لیے مقررہ سالانہ فیس ادا کریں۔

کئی سرگرمیوں کو اس فیس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں پیٹرول اسٹیشنوں پر ایندھن فراہم کرنے کی خدمات، شہری آبادی سے باہر واقع پیٹرول اسٹیشن اور سروس سینٹرز، ہوٹل، ہوٹل اپارٹمنٹس، ریزورٹس اور اسی نوعیت کی رہائشی سہولیات، نیز فارمیسیاں، شادی ہال، تفریحی آرام گاہیں، طبی خدمات اور تعلیمی ادارے شامل ہیں، کیوں کہ یہ بنیادی نوعیت کی خدمات تصور کی جاتی ہیں۔

بلدیاتی اداروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ایسی سڑکوں اور تجارتی علاقوں کا تعین کریں جہاں کاروبار چوبیس گھنٹے جاری رکھا جا سکے، بشرطیکہ اس سے رہائشی علاقوں یا شہریوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

ضوابط میں یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ کاروباری اوقات سعودی لیبر قوانین اور خواتین کے روزگار سے متعلق ضوابط کے مطابق ہوں۔

اجازت نامہ حاصل کرنے والے تمام کاروباری اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ تمام متعلقہ قوانین اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں۔ ضوابط کے تحت کاروباری اداروں کو یہ حق بھی حاصل ہوگا کہ وہ ان قواعد کے نفاذ سے متعلق فیصلوں کے خلاف بلدیاتی شکایتی کمیٹیوں یا دیگر متعلقہ مجاز اداروں کے سامنے اپیل کر سکیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close