ورلڈبینک کا پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ
ورلڈ بینک نے پاکستان سے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے اور تجویز دی ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے عمودی اور افقی دونوں سطحوں پر تبدیلی لائی جائے اور اخراجات کی ضروریات اور متوقع ریونیو کی گنجائش کی بنیاد پر مالیاتی ‘مساوات’ (فسکل ایکولائزیشن) کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
انگریزی جریدے دی نیوز کے مطابق ورلڈ بینک کے لیڈ اکانومسٹ اور رپورٹ کے مصنف ٹوبیاس ہاک نے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے ہمراہ اسلام آباد میں “پاکستان میں فیسکل فیڈرلزم کو مضبوط بنانا” کے عنوان سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس بات کی حمایت کی کہ وسائل کی تقسیم کے بنیادی معیار سے آبادی کو خارج کر دیا جائے اور اس کے بجائے مالیاتی مساوات کو آگے بڑھایا جائے۔ رپورٹ میں اشیاء اور خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے تجویز دی گئی کہ ٹیکس جمع کرنے کا ایک متحدہ اور مرکزی طریقہ کار اپنایا جائے جس کے بعد جمع شدہ رقم صوبوں میں تقسیم کی جائے، اگرچہ اس اقدام کے لیے قانون سازی میں تبدیلیاں درکار ہوں گی۔
ورلڈ بینک نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے وفاق کے لیے مختص کیے گئے 1,035 ارب روپے کے گرانٹس میں سے پنجاب نے 546 ارب روپے اور سندھ نے 260 ارب روپے کے گرانٹس واپس لے لیے، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت میں قائم خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے مالی سال 27-2026 کے اپنے صوبائی بجٹ میں وفاق کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے حوالے سے ورلڈ بینک نے سفارش کی کہ وفاقی سطح پر قومی رجسٹری کا نظام برقرار رکھا جائے لیکن اس کے اخراجات میں تمام صوبے حصہ داری کریں کیونکہ سوشل پروٹیکشن کا شعبہ صوبائی اکائیوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی وفاقیت کے موجودہ انتظامات کے باعث وفاق میں ایک ساختی مالیاتی خسارہ ابھرا ہے، کیونکہ مالی سال 2010 سے مالی سال 2024 کے دوران وفاقی منتقلیوں سمیت صوبائی محصولات جی ڈی پی کے 4 فیصد سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئے لیکن وفاقی اخراجات میں اس کے تناسب سے کمی نہیں کی گئی۔ منتقلیوں کی وجہ سے وفاقی محصولات میں ہونے والا نقصان (جو جی ڈی پی کا 1.9 فیصد ہے) تقریباً اس اضافے کے برابر ہے جو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بعد وفاق کے بنیادی خسارے (جو جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہے) میں دیکھا گیا۔ کمزور مجموعی ریونیو اور میکرو اکانومک کارکردگی کے تناظر میں، وفاقی مالیات اور فعال ضروریات کے درمیان یہ عدم توازن پاکستان کے مالیاتی خسارے اور عوامی قرضوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ بنا ہے۔
ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ مالیاتی وفاقیت نچلی سطح پر عوام کو فوائد پہنچانے میں ناکام رہی ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ معیشتوں کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی سازوں کو مختلف آپشنز فراہم کرتی ہے۔ وفاق کی جانب سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 10 سے 15 فیصد تک بڑھانے میں ناکامی کے سوال پر ورلڈ بینک کے لیڈ اکانومسٹ نے جواب دیا کہ جہاں ایک طرف وفاق اس محاذ پر پیچھے رہا، وہیں صوبے بھی اپنے سالانہ حصے کو جی ڈی پی کے 0.7 فیصد سے آگے بڑھانے میں ناکام رہے جبکہ ان کے پاس 1.15 فیصد تک پہنچنے کی صلاحیت موجود تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اخراجات کے حوالے سے ذمہ داریوں کا نفاذ اب بھی نامکمل ہے اور کچھ شعبوں میں ان کی تعریف واضح نہیں ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم نے سماجی خدمات اور اقتصادی افعال کی ذمہ داری صوبوں کو سونپ دی تھی لیکن وفاقی حکومت اب بھی آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں میں کام کر رہی ہے جس سے وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے اور جوابدہی کا تصور دھندلا رہا ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کے پاس واضح طور پر بیان کردہ یا مناسب وسائل سے لیس فعال مینڈیٹ موجود نہیں ہے۔ ثانیاً، اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں ٹیکس کا نظام بکھر کر رہ گیا ہے کیونکہ اس نے صوبائی ٹیکس کے اختیارات، خاص طور پر خدمات پر جی ایس ٹی کو تو مضبوط کیا لیکن ساتھ ہی ٹیکس بیس کو پانچ الگ الگ دائرہ اختیاروں میں تقسیم کر دیا۔
اس پیچیدگی کی وجہ سے تعمیل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، بین الصوبائی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور مجموعی ریونیو کی کارکردگی محدود ہو گئی ہے، جبکہ زرعی آمدنی اور پراپرٹی جیسے بڑے ممکنہ ٹیکس بیس اب بھی نمایاں طور پر کم استعمال ہو رہے ہیں۔ ثالثاً، موجودہ وفاقی و صوبائی منتقلی کے انتظامات بشمول عمودی حصہ اور افقی الاٹمنٹ فارمولا اہم پالیسی اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔ اگرچہ این ایف سی پر مبنی منتقلی کا نظام صوبوں کے ریونیو شیئرز کو تحفظ اور پیشگوئی فراہم کرتا ہے لیکن مالیات کا بہاؤ افعال کے مطابق نہیں رہا، جس کی وجہ سے وفاقی وسائل اخراجات کی ذمہ داریوں میں کسی متناسب کمی کے بغیر کم ہو گئے اور اس نے وفاق کے ساختی مالیاتی خسارے کو جنم دیا۔ افقی تقسیم کا فارمولا بھی حقیقی مالیاتی مساوات حاصل کرنے میں ناکام ہے اور صوبوں کو ریونیو بڑھانے یا خدمات کی فراہمی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کوئی معنی خیز ترغیب نہیں دیتا، بلکہ یہ انتظامات وفاق کی ٹیکس جمع کرنے کی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں کیونکہ محصولات کا ایک بڑا حصہ خود بخود صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔
آخر میں، آرٹیکل 140A کے تحت آئینی طور پر تسلیم کیے جانے کے باوجود مقامی حکومتیں مالی طور پر محتاج، ادارہ جاتی طور پر غیر مستحکم اور عملی طور پر صوبائی صوابدید کے تابع ہیں کیونکہ صوبائی مالیاتی کمیشن (پی ایف سی) ایوارڈز شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور وہ پابند نہیں ہیں، جبکہ منتقلی ایڈہاک بنیادوں پر ہوتی ہے اور ان کا اپنا ریونیو نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2010 میں جس اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا تصور کیا گیا تھا وہ صوبائی سطح سے نیچے صحیح معنوں میں منتقل نہیں ہو سکا۔
کمزور مجموعی ریونیو کے اس ماحول میں ٹیکس بیس کی پانچ دائرہ اختیاروں میں تقسیم نے ترغیبات کو بگاڑ دیا ہے، تعمیل کے اخراجات بڑھائے ہیں اور ٹیکس چوری کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ توسیعی صوبائی ریونیو کے باوجود صوبوں کا اپنا ٹیکس ریونیو بمشکل ہی بڑھ سکا ہے اور زرعی انکم ٹیکس کا بڑا حصہ اب بھی غیر وصول شدہ ہے حالانکہ یہ شعبہ جی ڈی پی کے 20 فیصد سے زائد کا مالک ہے۔ اسی طرح شہری غیر منقولہ جائداد کا ٹیکس جی ڈی پی کا صرف 0.13 فیصد پیدا کرتا ہے جو کہ دیگر ہم منصب ممالک کے 0.3 سے 0.6 فیصد کے معیار سے بہت کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی وفاقیت کے انتظامات عوامی اخراجات اور خدمات کی فراہمی کو ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنے میں محدود اثر دکھا سکے ہیں، اور اگرچہ صوبوں نے اٹھارویں ترمیم کے بعد بنیادی خدمات پر اخراجات بڑھائے ہیں لیکن سب سے بڑا اضافہ انتظامی اخراجات میں ہوا ہے۔ صوبوں کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 80 فیصد حصہ جاری اخراجات (کرنٹ کاسٹس) کی نذر ہو رہا ہے جس میں سے زیادہ تر رقم تعلیم یا صحت کے بجائے عام عوامی خدمات اور انتظامی اخراجات پر لگ رہی ہے۔ اخراجات جغرافیائی طور پر بھی غیر منصفانہ رہے ہیں کیونکہ اضلاع کو فنڈز کی فراہمی غربت کی سطح یا خدمات کی فراہمی کے خلا کو دیکھنے کے بجائے تاریخی روایات کی بنیاد پر دی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کل سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ جو 2005 میں تقریباً 10 فیصد تھا، 2024 تک گر کر محض 4.7 فیصد رہ گیا ہے۔
ورلڈ بینک نے سفارش کی ہے کہ ایسا افقی تقسیم کا حل اپنایا جائے جو مثبت مالیاتی ترغیبات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مساوات بھی لائے۔ موجودہ پیچیدہ کثیر العوامل فارمولے کی جگہ ایک شفاف فیسکل گیپ اپروچ لائی جائے جو صوبوں کی اپنی ریونیو کی گنجائش کے مقابلے میں اخراجات کی ضروریات کے معیاری جائزوں کی بنیاد پر وسائل تقسیم کرے، جس سے ریونیو بڑھانے کی حوصلہ شکنی کا خاتمہ ہو گا اور صوبوں پر مالیاتی کارکردگی کی وجہ سے کوئی جرمانہ عائد نہیں ہو گا۔ اصل اخراجات یا وصولی کے بجائے ضروریات اور گنجائش کا استعمال ان صوبوں کو سزا سے بچاتا ہے جو اچھا پرفارم کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت غیر مشروط منتقلیوں سے صوبائی مالیاتی خودمختاری برقرار رہتی ہے اور دنیا کے کئی ممالک بشمول آسٹریلیا، کینیڈا، چین، نائجیریا اور جنوبی افریقہ اس ماڈل کی مختلف شکلیں اپنا چکے ہیں۔
اس مساوات کے فریم ورک کو تعلیم اور صحت جیسے منتقل شدہ شعبوں میں قابل پیمائش خدمات کی فراہمی کے نتائج سے جڑے مشروط تبادلوں کے ذریعے مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے، جن کی تصدیق کسی آزاد تھرڈ پارٹی سے کروائی جائے اور وفاقی و صوبائی شماریاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ دیگر قومی ترجیحات جیسے ریونیو کی وصولی، ماحولیاتی اشیاء، گورننس اور موثر مقامی حکومت کو بھی مشروط منتقلیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔ مکمل اوور ہال نہ ہونے کی صورت میں موجودہ فارمولے میں غربت، پسماندگی اور معکوس آبادی کی کثافت کے اشاریوں کو زیادہ اہمیت دے کر اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے، اور صوبوں کو پراپرٹی اور زرعی ٹیکسوں سمیت اپنے ممکنہ اور اصل ریونیو کے فرق کو ختم کرنے پر انعامات دیے جا سکتے ہیں، جبکہ منتقلیوں کے ایک حصے کو اہم عوامی خدمات میں سرمایہ کاری، مالیاتی ڈسپلن، بجٹ شفافیت، موسمیاتی موافقت، تباہی سے نمٹنے کی تیاری اور مقامی حکومتوں کو مزید اختیارات دینے سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ بینک نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ این ایف سی ایک مرکزی انتظامیہ کے تحت جی ایس ٹی بیس کے مکمل اتحاد کی کوشش کر سکتا ہے جہاں آئینی ریونیو شیئرنگ کی دفعات کو ایک متفقہ فارمولے کے ذریعے نافذ کیا جائے۔ انکم ٹیکسیشن کے محاذ پر این ایف سی صوبائی زرعی انکم ٹیکس کے نظام کے نفاذ کو آگے بڑھا سکتا ہے جسے حال ہی میں وفاقی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ترمیم کیا گیا ہے، اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے معلومات کے خود کار تبادلے کے انتظامات قائم کیے جا سکتے ہیں جبکہ پراپرٹی کے معاملے پر این ایف سی ایک مشترکہ ویلیو ایشن سسٹم اور یکساں طریقہ کار کے ذریعے تمام غیر منقولہ جائداد سے متعلق لیویز، ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور فیسوں کو ہم آہنگ کرنے کی حمایت کر سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






